انڈونیشیا میں پاکستان ،ْ افغانستان اور انڈونیشیا کے علماء کی حالیہ کانفرنس میں پاکستانی شرکاء نے طالبان کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کی کوشش ناکام بنا دی

پاکستانی علماء نے مشترکہ طورپر اعلامیہ سے بھی طالبان کا نام ہٹا دیا ،ْ پاکستانی علماء کا افغانستان سمیت پوری دنیا میں امن وامان کی حمایت کا اعادہ

جمعرات مئی 18:37

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) انڈونیشیا میں پاکستان ،ْ افغانستان اور انڈونیشیا کے علماء کی حالیہ کانفرنس میں پاکستانی شرکاء نے طالبان کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ۔کانفرنس میں پندرہ رکنی پاکستانی علماء اور دینی سکالرز کے وفد میں شامل مدرسہ تفہیم القرآن مردان کے مہتمم ڈاکٹر عطاء الرحمن نے’’ این این آئی ‘‘کو بتایا کہ پاکستانی علماء نے مشترکہ طورپر اعلامیہ سے بھی طالبان کا نام ہٹا دیا ۔

انہوںنے کہاکہ افغان علماء کی خواہش تھی کہ کانفرنس میں افغانستان میں جاری جنگ سے متعلق ایک فتویٰ جاری کیا جائیگا لیکن پاکستانی علماء کا اصرار تھا کہ انہوںنے اپنے ملک کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے فتویٰ جاری کیا ہے اور یہ افغان علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے فتویٰ جاری کرے تاہم پاکستانی علماء نے افغانستان سمیت پوری دنیا میں امن وامان کی حمایت کا اعادہ کیا ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ پاکستانی وفد نے اس تجویز کی بھی مخالفت کی جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان میں ماضی میں جتنے اعلامیئے منظور ہوئے ہیں انڈونیشیا میں ہونے والی کانفرنس اس کی تائید کرے لیکن پاکستانی علماء کا موقف تھا کہ انہیں افغانستان میں ماضی میں جاری کئے گئے اعلانات سے متعلق وہ آگاہ نہیں ہیں لہذا اس کی حمایت نہیں کر سکتے ۔مدرسہ حقانیہ کے نائب مہتمم مولانا انوار الحق نے کانفرنس سے واپسی پر کہاکہ کسی بھی پاکستانی شرکاء نے طالبان سے جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کیا اور اس سلسلے میں افغان میڈیا کی خبریں غلط ہیں ۔

انہوںنے کہاکہ کانفرنس کے دور ان افغانستان میں غیر ملکی افواج کے بارے میں مثال پیش کی تھی کہ جب تک کنویں سے مردار نہ نکالا جائے تو پانی صاف نہیں ہوتا اور یہی مثال افغانستان میں غیر ملکی افواج کی بھی ہے جب تک وہ وہاں سے نہ چلے جائیں مسئلہ حل نہیں ہوتا ۔انہوںنے کہاکہ شمالی اتحاد کے علماء کی خواہش تھی کہ اعلامیہ میں طالبان کا نام استعمال کیا جائے لیکن ہم نے منتظمین کو طالبان کے خلاف بیان سے روک لیا ۔

حقانیہ مدرسے کے ایک اور استاد مولانا محمد ادریس کاکہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے اور علماء اس مسائل کے حل میں اہم کر دار ادا کر سکتے ہیں ۔وفد کے ایک اور رکن مولانا عزیز الرحمن ہزاروی نے کہاکہ امن کا مطالبہ صرف افغانستان تک محدود نہیں ہوناچاہیے بلکہ مقبوضہ کشمیر ،ْ فلسطین ،ْ عراق ،ْ یمن ،ْ شام اور دیگر اسلامی ممالک میں بھی امن ہونا چاہیے۔