وزیراعلیٰ پرویزخٹک کا وزیرتعلیم کے ہمرای کیڈٹ کالج تخت بھائی کا معائنہ

جمعرات مئی 18:39

وزیراعلیٰ پرویزخٹک کا وزیرتعلیم کے ہمرای کیڈٹ کالج تخت بھائی کا معائنہ
پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) موجودہ حکومت کے پانچ سالہ دور میں مردان میں کئی پراجیکٹ مکمل کیے گئے ہیں جن میں گرلز کیڈٹ کالج کیڈٹ کالج ، ویمن یونیورسٹی اور مردان یونیورسٹی آف انجنیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا قیام بھی شامل ہے ۔ ویمن یونیورسٹی میں فی الوقت گیارہ مختلف شعبوں میں ہزاروں طالبات اعلیٰ تعلیم حاصل کررہی ہیں جبکہ صوبائی حکومت نے یو ای ٹی پشاور کے مردان کیمپس کو ایک مکمل انجنیئرنگ یونیورسٹی کا درجہ دیدیا ہے اسی طرح ملک کے پہلے گرلز کیڈٹ کالج نے بھی مردان میں گرلز کامرس کالج کی عمارت میں کام شروع کردیا ہے جہاں ملک بھرسے طالبات نے داخلہ حاصل کرلیاہے اور یہ کالج بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کابھی مرکز ہے جس نے ایک سال کے قلیل عرصے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔

گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے صوبائی وزیر تعلیم محمد عاطف خان کے ہمراہ تخت بائی میں کیڈٹ کالج کی زیر تعمیر عمارت کا معائنہ کیا جو وسیع قطعہ اراضی پر دو ارب چالیس کروڑ روپے کی خطیر رقم سے تعمیر کی جارہی ہے ۔ مردان میں تعلیمی شعبے کا ایک اور بڑا منصوبہ فاطمہ الفہری گرلز ماڈل سکول کا ہے جو بخشالی روڈ پر مکمل ہوگیا ہے جس پر 35 کروڑ روپے لاگت آئی ہے اور جہاں داخلے جاری ہیں ۔

دی فضل حق کالج کے طرز پر تعمیر کیے گئے اس ماڈل گرلز سکول میں طالبات کو معیاری تعلیم دی جائے گی ۔موجودہ حکومت نے دیگر شعبوں کی کھیلوںکے شعبے کی ترقی پر بھی توجہ مرکوز ہے اور مردان میں بورڈ سپورٹس کمپلکس کا منصوبہ حکومت کی اس سوچ کا عکاس ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں کھیلوں کا زبردست ٹیلنٹ موجود ہے جس کو اجاگر کرنے کے لیے ان کو کھیلوں کی جدید سہولتیں دینا ناگزیر ہے ،مردان بورڈ سپورٹس کمپلکس شیخ ملتون کے قریب 85 کنال اراضی پر قائم کیا گیا ہے جس پر 38 کروڑ روپے لاگت آئی ہے اور یہاں سرکاری اور نجی سکولوں کے طلبہ وطالبات کو انڈور اور آوٹ ڈور گیمز کی جدید ترین سہولیات میسر ہوں گی ۔

مردان بورڈ سپورٹس کمپلکس کا جیمنازیم ہال ملک کے بڑے جمانزیم ہالز میں شمار ہوتا ہے جہاں والی بال اور باسکٹ بال کی انڈور سہولت بھی میسر ہوگی جبکہ ضلع کے مختلف دیہی یونین کونسلوں میں بارہ جمنازیم ہالز بھی تعمیر کی گئی ہیں جس سے ماضی میں نظر انداز کئے گئے ان علاقوں کے نوجوانوں کو انڈور گیمز کی سہولتیں مل گئی ہیں ۔

Your Thoughts and Comments