پاکستان، افغانستان اور انڈونیشیا پر مشتمل سہ فریقی علماء کانفرنس کا افغانستان میں امن و استحکام کیلئے مشترکہ کوششیں بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور

جمعرات مئی 18:42

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) پاکستان،، افغانستان اور انڈونیشیا پر مشتمل سہ فریقی علماء کانفرنس نے افغانستان میں امن و استحکام کیلئے مشترکہ کوششیں بروئے کار لانے کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے علماء کرام کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے، گزشتہ ہفتے انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ہونے والی دو روزہ علماء کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین قبلہ آیاز نے کی جبکہ افغانستان اور انڈونیشیا کے علماء کرام کانفرنس میں شریک ہوئے۔

دوروزہ کانفرنس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ اسلام امن وسلامتی اورتحمل وبرداشت کوفروغ دینے والا مذہب ہے جس نے ہمیشہ مسلمانوں کے مابین یکجہتی پرزوردیا ہے، اسلام کالفظ سلیمہ سے اخذ کیا گیا ہے جس کامطلب امن یا نجات ہے اور اسلام پر حقیقتًا عمل پیرا لوگ اس امرکے پابند ہیں کہ وہ رحم دلی اور شفقت کے عنصرکو اجاگرکریں اور اسے پھیلائیں۔

(جاری ہے)

اعلامیہ کے مطابق اسلام کا بنیادی پیغام امن ،رحم دلی اورشفقت ومہربانی عام کرنا ہے ، اس لئے علماء کانفرنس افغانستان میں امن واستحکام کیلئے پیغام پاکستان اوراسلامی دنیا کی جانب سے اٹھائے جانے والے ان تمام اقدامات کی حمایت کرتی ہے جس سے امن و استحکام اوراسلامی بھائی چارے کوفروغ حاصل اوردہشتگردی وانتہاپسندی کی مذمت ہوسکے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امن اللہ تعالٰی کاحکم ہے اس لئے مسلمانوں کایہ فرض ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اللہ کے اس حکم پر عمل پیرا ہوں ،مسلمانوں کے مابین پائے جانے والے تمام تنازعات اورجھگڑوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں حل کیا جانا چاہیے ، اس لئے ہم علماء کرام افغانستان حکومت کی جانب سے امن کے حصول کے لیے جنوری 2018ء میں کابل میں منعقد ہونے والے امن عمل کے دوران صدر اشرف غنی کے اعلان کی ٹھوس حمایت کرتے ہیں اور ان کو سراہتے ہیں۔

ا س سلسلے میں علماء کرام علاقائی ممالک، اسلامی دنیا اور عالمی برادری کی جانب سے امن عمل کی حمایت کرنے کو بھی سراہتے ہیں۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ کانفرنس میں شریک علماء کرام نے افغانستان میں امن عمل کے دوران کابل میں سازگار ماحول کو سراہتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ امن کی بحالی کیلئے بات چیت کا آغاز کریں کیونکہ قرآن پاک میں بھی مسائل کے حل کیلئے پرامن بات چیت پر زور دیا گیا ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ انبیاء کرام کے وارث ہونے کے ناطے علمائے کرام کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اسلام کے ان عالمی اصولوں اور اقدار کو فروغ دیں جن میں امن، تحمل و برداشت، سماجی انصاف اور دستگیری کے ساتھ ان اصولوں پر عمل کیا جاسکے، امت مسلمہ کے علمائے کرام خصوصاً انڈونیشیا، افغانستان اور پاکستان مسلمان ممالک کو درپیش چیلنجوں سے پوری طرح آگاہ ہیں اس لئے وہ امت مسلمہ خصوصاً افغانستان میں امن و استحکام لانے کے لئے موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

کانفرنس کے شرکاء نے واضح کیا کہ انتہاپسندی اور دہشتگردی کو کسی مذہب، قومیت یا نسل سے وابستہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دہشتگردی و انتہاپسندی جس شکل میں بھی ہو اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔علماء کانفرنس سے انڈونیشیا کے نائب صدر یوسف کلا نے بھی خطاب کیا۔