سپریم کورٹ، موبائل ٹاور تنصیب کے دوران مزدوروںکی ہلاکت بارے از خود نوٹس کیس کی سماعت

عدالت کی موبائل کمپنی، پنجاب وبلوچستا ن حکومتوں کو متاثرہ خاندانوں کیلئے اعلان کردہ پیکیج کی رقوم سیشن جج اوکاڑہ کے پاس جمع کرانے کی ہدایت

جمعرات مئی 19:00

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے بلوچستان کے علاقہ خاران میں یوفون ٹاورکی تنصیب کے دوران پنجاب سے تعلق رکھنے والے 6 مزدوروں کی ہلاکت سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے موقع پر یوفون موبائل کمپنی اور پنجاب وبلوچستان کی حکومتوں کوہدایت کی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کیلئے اعلان کردہ پیکیج کی رقوم سیشن جج اوکاڑہ کے پاس جمع کرائی جائیں۔

جمعرات کو کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔ اس موقع یو فون کی جانب سے ہلاک ہونیوالے مزدوروں کے لواحقین اور زخمیوں کیلئے اعلان کردہ ا امدادی پیکیج عدالت میں پیش کیا گیا ۔ کمپنی کے وکیل علی رضا نے پیش ہوکرعدالت کوپیکیج کے حوالے سے بتایا کہ ہماری کمپنی کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کیلئے دس دس لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے لئے فی کس 5 لاکھ روپے دیئے جائیں گے، اس کیساتھ جاںبحق ہونیوالے مزدوروں کی بیوائوں، بچوں اور والدین کو 20 سے 25 ہزار ماہانہ وظیفہ بھی دیا جائیگا، اس کیساتھ کمپنی مرنے والے دو مزدوروں کے پانچ بچوں کے سکول سے یونیورسٹی تک تعلیمی اخراجات بھی برداشت کرے گی۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران سانحہ میں جان بحق ہونے والے مزدور فخر عزیز کے بھائی نے عدالت میں پیش ہوکربتایا کہ ٹاورنصب کرنے والا مقامی ٹھیکیدار ہمیں ہراساں کر رہا ہے، جسٹس عمرعطابندیال نے ان سے کہا کہ خاموش رہیں ، آپ کو تحفظ اور معاوضہ عدالت دلوائے گی۔ عدالت اپنے فرض میں کوئی کوتاہی نہیں کرے گی ۔ اس موقع پرجسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رزاق اے مرزا سے استفسار کیا کہ کیا آپ لوگوں کی جانب سے بھی متاثرہ لوگوں کی مدد کیلئے کسی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے جس پرانہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت بھی متاثرہ خاندانوں کی مدد کررہی ہے اوراعلان کردہ پیکیج کے تحت ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو دس دس لاکھ جبکہ شدید زخمی ہونے والوں کے لئے فی کس 5 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔

عدالت کو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے بتایاکہ بلوچستان کی جانب سے بھی ہلاک شدگان کے لواحقین کو دس دس لاکھ، جبکہ شدید زخمی ہونے والوں کے لیے 5 لاکھ روپے فی کس دیئے جائیں گے۔ عدالت کویوفون کے وکیل نے بتایا کہ میری اطلاعات کے مطابق ہواوے موبائل کمپنی نے بھی ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کیلئے 5 لاکھ روپے امداد کا اعلان کر رکھا ہے، جس پرجسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ 30 سے 35 لاکھ کا پیکیج لواحقین کو مل رہا ہے اور بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری بھی ا ٹھائی جارہی ہے ، جو ایک اچھی پیشرفت ہے بعدازاں عدالت نے یو فون، پنجاب اور بلوچستان کی حکومتوں کو امدادی پیکیج کی رقوم سیشن جج اوکاڑہ کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کر تے ہوئے مزید سماعت جون کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی ۔