محکمہ زراعت کاتین اہم پھلوںکو برآمد ات کرنے کا انقلابی منصوبہ ،کاشتکاروں میں خوشی کی لہر ،برآمدات میں اضافہ متوقع

227.610 ملین روپے مختص،12,960 کو کسانوںکو تربیت فراہم کی جائے گی،آم ،کینو اور امردور کومحفوظ بنایا جائیگا

جمعرات مئی 19:20

لاہور۔17 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) دنیا بھر میں پسند کئے جانے والے پاکستان کے تین اہم ترین پھلوں کی برآمدات میں رکاوٹ ختم کرنے کے لئے 227.610 ملین روپے کا منصوبہ شروع ہوگیا ہے ، اس منصوبہ سے آم ،امردواورکینو کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے ،محکمہ زراعت حکومت پنجاب نے پھل کی مکھی کے لئے ایک منصوبہ Managment of Fruitfly with special reference to non-conventional method2014-15 سے 2017-18 کے لئے شروع کیاہے ۔

اس منصوبہ کی کل لاگت 227.610 ملین روپے ہے ۔ منصوبہ کے تحت 3 پھل آم، ترشاوہ ، امرود کے باغات کا چنائوں کیا گیا ہے۔ اس منصوبہ کا انعقاد صوبہ پنجاب کے 30 اضلاع میں ہوگا جس میں سے 15اضلاع میں Fruitfly Material (میتھائل یوجینال ، پروٹین ہائیڈرو لائسیٹ، میلاتھیان اور پلاسٹک ٹریپ) پر 50% سبسڈی دی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

دوسرے مرحلہ پر پنجاب کے بقیہ 15 اضلاع میں 49 نمائشی بلاک تحصیل کی سطح پر لگائے جا رہے ہیں جس میں ہر بلاک کا ایریا 10 ایکڑ ہے۔

منصوبہ کے تحت کل 50,000 ایکڑ پر پھل کی مکھی کا کنٹرول کیا جائے گا جس میں 20,000 ایکڑ پر آم کے باغات ، 26500 ایکڑ پر ترشاوہ باغات اور 3500 ایکڑ پر امرود کے باغات شامل ہیں۔ اس منصوبہ کے تحت 12,960 کسانوں کو ٹریننگ بھی دی جائے گی تاکہ وہ اپنے باغات سے پھل کی مکھی کا تدارک کامیابی سے کر سکیں۔ پھل کی مکھی نرم پھل پر ڈنگ مار کر اس کے اندر انڈے دیتی ہے جو بعد میں سنڈی اور پروانہ بن کر ظاہر ہوتے ہیں اور اگلی نسل تیار کرتے ہیں۔ سال میں کم از کم اس کی 10 سے 13 نسلیں چلتی ہیں۔ پاکستان میں اس کی دو اقسام قابل ذکر ہیں جن میں زونیٹا اور ڈارسیلوز پائی جاتی ہیں۔