حکومت فاٹا کو فوری طور پر خیبر پختونخوا میں ضم کرکیخیبر پختونخوا اسمبلی میں فاٹا کو نمائندگی دے،

سینیٹر مشتاق احمد خان فاٹا اصلاحات میں تاخیر کے ذریعے حکومت فاٹا کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہے، فاٹا انضمام کے لئے ریفرنڈم کا مطالبہ کرنے والے آئین سے نابلد ہیں،امیر جماعت اسلامی خیبر پختون خوا

جمعرات مئی 20:41

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) امیر جماعت اسلامی و صدر ملی یکجہتی کونسل خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ حکومت فاٹا کو فوری طور پر خیبر پختونخوا میں ضم کرے اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں فاٹا کو نمائندگی دے۔ حکومت اپنے وعدے سے مکر گئی ہے اور فاٹا کے عوام کے ساتھ فراڈ اور دھوکہ دہی کی مرتکب ہوئی ہے۔ فاٹا اصلاحات میں تاخیر کے ذریعے حکومت فاٹا کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہے۔

تیسویں آئینی ترمیم کو فوری طور ایوان میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے انضمام اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں فاٹا کے عوام کو نمائندگی دینے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے، فاٹا انضمام کے لئے ریفرنڈم کا مطالبہ کرنے والے آئین سے نابلد ہیں۔ دستور میں ریفرنڈم کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔

(جاری ہے)

فاٹا انضمام میں رکاؤٹیں ڈالنے والے فاٹا کے عوام سے غداری کے مرتکب ہورہے ہیں۔

فاٹا کے عوام ان لوگوں کو پہچانیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مواقع گنوا رہی ہے، فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا حکومت کے پاس یہ آخری موقع ہے، حکومت نے یہ موقع گنوایا تو فاٹا کے عوام کبھی ان کو معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2018کے انتخاب میں ظالمانہ اور سامراجی نظام کے ان پاسبانوں کو عبرتناک شکست دیں۔ فاٹا کی محرومیوں کے ذمہ دار ایف سی آر کا ظالمانہ نظام اور کئی عشروں سے فاٹا سے منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی اور سینیٹ ممبران ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایف سی آر کے پاسبان اور فاٹا اصلاحات کے مخالفین خود اسلام آباد میں تمام سہولیات سے استفادہ کررہے ہیں لیکن فاٹا کے عوام کو غربت اور پسماندگی میں رکھنے پر اسرار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہر مشکل وقت میں قبائلی عوام کا ساتھ دیا۔ جماعت اسلامی فاٹا کی محرومیاں ختم کرے گی۔