اسلام آباد،سینیٹر رحمان ملک کا حکومت سے بینظیر بھٹو شہید قتل میں ملوث پانچ طالبان کے ناموں کو ای ایس ایل میں ڈالوانے کا مطالبہ

ایف آئی اے کے جی آئی ٹی نے اعتزازشاہ، شیر زمان، حسنین گل، رفاقت اور رشید ترابی کو ملوث قرار پایا ہے،پانچ ملزمان کیخلاف نہ صرف ٹھوس شواہد ہیں بلکہ یہ سب اقرار جرم بھی کر چکے ہیں،رہنما پی پی پیکی پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ہنگامی پریس کانفرنس

جمعرات مئی 20:44

اسلام آباد،سینیٹر رحمان ملک کا  حکومت سے بینظیر بھٹو شہید قتل میں ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رحمان ملک نے حکومت سے بینظیر بھٹو شہید قتل میں ملوث پانچ طالبان کے ناموں کو ای ایس ایل میں ڈالوانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران رحمان ملک نے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کے نام لکھا خط میڈیا کے سامنے پڑھ کر سنایا ۔

سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کے جی آئی ٹی نے اعتزازشاہ، شیر زمان، حسنین گل، رفاقت اور رشید ترابی کو ملوث قرار پایا ہے۔ ان پانچ ملزمان کیخلاف نہ صرف ٹھوس شواہد ہیں بلکہ یہ سب اقرار جرم بھی کر چکے ہیں۔ خودکش حملہ آور کے جوتے کے ڈی این اے انکی ملوث ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان نے اپنی کتاب ‘‘انقلاب محسود’’ میں محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کا اعتراف کر چکے ہیں۔

(جاری ہے)

ٹھوس شواہد اور اعترافی بیانات کے باوجود ان طالبان کی رہائی باعث تشویش ہے۔ سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ طالبان کی ان پانچ دھشتگردوں کی رہائی کا پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی ان طالبان ملزمان کی رہائی پر بھرپور احتجاج کرتی ہے اور انصاف کا مطالبہ کرتی ہے۔ پیپلز پارٹی،، ورکرز، بھٹو فیملی کے ساتھ نا انصافی کا معاملہ اٹھا رہا ہوں۔

محترمہ پر خود کش حملہ آور کا ساتھی اکرام اللہ اس وقت قندھار میں موجود ہے۔ رحمان ملک نے کہا کہ افغان خفیہ ایجنسی کو اچھی طرح علم ہے کہ اکرام اللہ افغانستان میں کہاں ہے۔ 30جنوری کو اکرام اللہ کو پاکستان واپس لانے کا مطالبہ وزیرِداخلہ سے ایک خط میں کر چکا ہوں۔ افسوس ہے کہ میرے اس خط پر اب تک وزارت داخلہ نے کوئی کاروائی نہیں کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ کو یاددہانی کرا رہا ہوں کہ اکرام اللہ کا معاملہ حکومت افغانستان کیساتھ اٹھائے۔

ٹی ٹی پی کے پانچ کارندوں نے محترمہ پر حملہ کرکے شہید کیا۔ اکرام اللہ کا بیان بہت اہم ہو گا، حکومت اسکو فوری واپس لائے۔ جو پانچ ملزم رہا ہوئے ہیں اس پر پیپلز پارٹی بھرپور احتجاج کرتی ہیں۔ ان پانچوں ملزمان کے نام طالبان کے اس لسٹ میں دئے گئے تھے جنکے رہائی کا مطالبہ حکومت سے کیا گیا تھا۔ اگر یہ پانچوں ملزمان طالبان کے کارندے نہ ہوتے تو طالبان ‘‘امن جرگے’’ میں حکومت سے انکی رہائی کا مطالبہ کیوں کرتی ۔۔مری امن جرگے میں طالبان نے حکومت پاکستان سے ان پانچوں ملزمان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت انکے نام فوری ای سی ایل پر ڈالدیں کہ یہ اکرام اللہ کیطرح ملک سے فرار نہ ہو۔