رمضان المبارک کا پہلا روزہ ، معمولات زندگی میں فرق،کاروباری مراکز دیر تک بند رہے،ٹریفک معمول سے کم نظر آئی

جمعرات مئی 20:56

راولپنڈی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) ملک بھر کے دیگر شہرکی طرح رمضان المبارک کے پہلے روزے کے موقع پر شہر بھر میں سحری اور افطار کے اوقات میں شہریوں کی بڑی تعداد کھانے پینے کی اشیاء،پھلوں اور سبزیوں کی خریداری میں مصروف نظر آئے جبکہ دن کے وقت میں ٹریفک کا دبائو کم دیکھنے میں آٓ یا ، شہر کی تمام بڑی مارکیٹوں کی دکانیں دیر سے کھلنے کی وجہ سے عوام کا مشکلات کا بھی سامنا رہا ، سرکاری احکامات پر تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات شروع ہو گئی ہیں جبکہ بعض نجی سکولوں کی جانب سے سکول کھلے رکھے گئے۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سخت احکامات کے باوجود پھل ِسبزی اور گوشت کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اس حوالے سے ایک سروے رپورٹ میں "اے پی پی"کو شہریوں نے بتایا ہے کہ آج جمعرات کے روز پہلا روزہ ہے اور گوشت کی خریداری کے لئے گئے تو وہاں قصابوں کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا اور ہر قصاب اپنی من پسند قیمتیں لگا کر گوشت فروخت کر رہا ہے ،انہوں نے بتایا ہے کہ وہ رمضان سے قبل بکرے کا گوشت850روپے کا کلو خریدا کرتے تھے مگر آج 50روپے کے اضافے کے ساتھ900روپے کا خریدنا پڑے ہے اسی طرح گائے کے گوشت میں 20روپے مرغی کے گوشت میں 50سی70روپے اضافہ کر دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

شہریوں نے بتایا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے کہا تھا کہ پھل اور سبزی سمیت دیگر کھانے پینے کی اشیاء میں اگر کوئی اپنی مرضی سے قیمت لگا کر فروخت کرے گا تو اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی مگر یہاں پر ہر شخض اپنی من مانی قیمت پر پھل اور سبزیاں فروخت کر رہا ہے مگر انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ بڑی مارکیٹوں کے ساتھ ساتھ گلی محلوں میں پھل اور سبزیاں فروخت کرنے والے افرادکی قیمتوں کو بھی چیک جائے۔

دوسری جانب حکوتی احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے نجی سکولوں کی جانب سے بچوں کو موسم گرما کی چھٹیاں نہیں دی گئیں اور شہر کے متعدد سکولز کھلے رہے۔اس حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض نجی سکولوں میں بچوں کے امتحانات ہو رہے ہیں جس وجہ سے ابھی تک موسم گرما کی تعطیلات نہیں کی گئی۔۔رمضان المبارک میں جہاں معمولات زندگی میں فرق نظر آٰیا وہاں سرکاری و غیر سرکاری دفاترز میں افسران و ملازمین کی حاضری بھی کم رہی جبکہ کاروباری طبقہ کی جانب سے بھی صبح کی بجائے دن کے اقات میں کاروباری مراکز کھولے گئے۔