بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شدید ہنگامہ آرائی ،اراکین کی تلخ کلامی، ایک دوسرے کو دھکے ،اسپیکر ڈائس کا گھیرائو، شدید احتجاج

مطالبات زر کی کاپیاں پھاڑ کر چیئر پرسن پر پھینک دیں ،شدید بدنظمی ہنگامہ آرائی کے دوران اجلاس ملتوی حکومتی اراکین کی واپسی پر اجلاس دوبارہ شروع کیا گیا، اپوزیشن کا واک آئوٹ

جمعرات مئی 20:56

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شدید ہنگامہ آرائی ،اراکین کی تلخ کلامی ایک دوسرے کو دھکے ،اسپیکر ڈائس کا گھیرائو کر کے شدید احتجاج ،مطالبات زر کی کاپیاں پھاڑ کر چیئر پرسن پر پھینک دیں ،شدید بدنظمی ہنگامہ آرائی کے دوران اجلاس ملتوی ، حکومتی اراکین کی واپسی پر اجلاس دوبارہ شروع کیا گیا اپوزیشن کا واک آئوٹ،،بلوچستان اسمبلی کا اجلاس دو روزہ وفقے کے بعد آدھے گھنٹے کی تاخیر سے پینل آف چیئرپرسن کی رکن شاہدہ رئو ف کی صدارت میں شروع ہوا،جلاس میں گزشتہ شب کوئٹہ کے علاقے کلی الماس میں آپریشن کے دوران شہید ہونیوالے کرنل سہیل عابد اور اے ٹی ایف کے اہلکارسید ثناء اللہ کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ آج انتہائی اہم اجلاس ہے جس میںمطالبات زر برائے مالی سال 2017-18پیش ہوناتھے لیکن حکومتی اراکین ایوان میں موجودنہیں ہیں اورمیزانیہ پر ہم نے جتنی کٹ موشن تحاریک لائی ہیں انکے لئے ایوان میں حکومتی اکثریت کا ہونالازمی ہے اس وقت ایوان میں 5اراکین موجود ہیںجس سے واضع ہوتا ہے کہ حکومت اکثریت سے بجٹ کو پاس نہیں کرسکتی لہذا وزیراعلیٰ بلوچستان فوری طور پر مستعفی ہوجائیںاور جو بھی نئی حکومت آئے گی و ہ بجٹ پاس کر لے انہوں نے چیئر پرسن سے مطا لبہ کیا کہ وہ حکومت کے خلاف رولنگ دیں کہ وہ بجٹ منظور کر نے میں ناکا م ہے جس پر چیئرپرسن نے مشیرخزانہ ڈاکٹر رقیہ ہاشمی سے موقف پیش کرنے کہا کہ مشیرخزانہ ڈاکٹر رقیہ ہاشمی نے کہا کہ میڈیم آپ کورم کے لئے گھنٹیاں بجھا دیں جس پر اپوزیشن کے اراکین نے کہا کہ کورم پورا ہے جس کے بعد اجلاس کی صدارت کر نے والی چیئرپرسن شاہدہ رئوف نے اجلاس کو جمعہ تک کے لئے ملتوی کردیا جس کے بعد اپوزیشن اراکین نے شدید احتجاج کیا تاہم وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور حکومتی اراکین کے آنے کے بعد پینل آف چیئرمین شاہدہ رئوف نے قائدے کے تحت دوبارہ اجلاس شروع کیا جس پر اپوزیشن اراکین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس کوئی قانون نہیں کہ آپ دوبارہ اجلاس طلب کریں جس قانون کے تحت اجلاس بلایا گیا ہے وہ صرف اسپیکر بلوچستان طلب کرسکتا ہے اجلاس میں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رکن اسمبلی سید لیاقت آغا نے شدید احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی جس پر چیئر پرسن شاہدہ رئو ف نے سارجنٹ کو حکم دیتے ہوئے کہاکہ لیاقت آغا کو ایوان سے نکالا جائے جس پر پشتونخواملی عوامی پارٹی کے اراکین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سارجنٹ کے ساتھ تلخ کلامی کی اور اسپیکرکے ڈائس پر پہنچے اور شدید احتجاج اس دوران سید آغا لیاقت ، سردار مصطفی خان ترین ،عبید اللہ بابت نے مطالبات زرکی کاپیاں پھاڑ دیںاور انہیں اجلاس کی صدارت کر نے والی چیئرپرسن شاہدہ رئوف کی جانب پھینکا ، وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیرداخلہ میر سرفراز بگٹی نے اپوزیشن کو منانے کی کوشش کی تاہم دونوںاپوزیشن کو منانے میں ناکام رہے اجلاس میں صورتحال اس وقت مزید خراب ہوگئی جب جمعیت علماء اسلام کے رکن اسمبلی مولوی معاذ اللہ نے پشتونخوامیپ کے اراکین سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر ایک خاتون ہے اور آپ ان کا احترام کریں جس پر پشتونخوامیپ اور جمعیت کے رکن مولوی معاذ اللہ درمیان گتھم گتھا ہوگئے تاہم وزیراعلی ، وزیرداخلہ ، میر عاصم کردگیلو، سردار عبدالرحمن کھیتران نے بیچ بچائو کروایا ،جس کے بعد اپوزیشن اراکین مسلسل احتجاج کرتے رہے اور بعد میں شدید نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے واک آئوٹ کیا اپوزیشن کے اراکین کے واک آئوٹ کے بعد کٹوتی کی تحریکیں ختم کردی گئی اورمطالبات زر کی منظوری دے دی گئی ۔