سرگودھا، فنڈز خردبرد کرنے اور انکوائری کمیٹی کے ارکان سے گتھم گتھا ہونے پر 109 جنوبی کی پرنسپل کو عہدے سے ہٹا دیا

چار لاکھ کی مٹھائی اور سموسے ‘ دس ٹرک بجری اور دیگر غیر ضروری سازو سامان کے بلز فائلوں میں لگا کر تمام رقم جیب میں ڈال لی

جمعرات مئی 21:20

سرگودھا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) لاکھوں کے فنڈز خردبرد کرنے اور انکوائری کمیٹی کے ارکان سے گتھم گتھا ہونے پر 109 جنوبی کی پرنسپل کو عہدے سے ہٹا دیا گیا،انکوائری کمیٹی نے 15 پر کال کر کے پولیس طلب کر لی، چار لاکھ کی مٹھائی اور سموسے ‘ دس ٹرک بجری اور دیگر غیر ضروری سازو سامان کے بلز فائلوں میں لگا کر تمام رقم جیب میں ڈال لی۔

تفصیلات کے مطابق جامع ہائی سکول سرگودہا کے جونیئر کلرک ممتاز کی بیوی اور گورنمنٹ گرلز ہائی سیکنڈری سکول چک نمبر 109جنوبی کی پرنسپل مسمات عظمیہ گزشتہ تین سالوں میں سکول کو دی جانے والی لاکھوں کی نان سیلری بجٹ کی گرانٹ ہڑپ کر گئی اور دس لاکھ کے لگ بھگ جعلی بلز فائلوں میں لگا کر سکول اخراجات ظاہر کر دیے۔ سکول کونسل کے ممبران نے اس کرپشن اور جعل سازی پر تشویش کا اظہار کیا تو ملزم خاتون آفیسر نے سکول کونسل کو تحلیل کر دیا اور چند خواتین پر مشتمل نئی کونسل قائم کی جس کو بھی غیر فعال رکھنے کی کوشش کی۔

(جاری ہے)

اس دوران پرنسپل نے چار لاکھ کی مٹھائی اور سموسے ‘ دس ٹرک بجری اور دیگر غیر ضروری سازو سامان کے بلز فائلوں میں لگا کر تمام رقم جیب میں ڈال لی۔اس کرپشن پر چک کے شہری طاہر جاوید نے کمشنر سرگودہا کو درخواست گزاری جس پر محکمہ تعلیم نے گریڈ بیس کے آفیسر چوہدری مختار احمد‘ گریڈ انیس کی آفیسر میڈم روبینہ یاسمین اور گریڈ اٹھارہ کی آفیسر میڈم روبینہ ماہین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی۔

کمیٹی کے ارکان برائے پڑتال فنڈز جب سکول پہنچے تو ملزم خاتون ان سے گتھم گتھا ہو گئی اور فنڈز کا ریکارڈ دینے سے انکار کر دیا۔ سکول کونسل ارکان کے دبائو پر ریکارڈ ملاحظہ کیا گیا تو لاکھوں کی کرپشن ثابت ہو گئی۔کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ملزمہ خاتوں آفیسر میڈم عظمیہ گزشتہ تین سالو ں کے نان سیلری بجٹ کی رقم ڈکار گئی ہے آڈٹ کمیٹی کی افواء پر ملزم خاتون نے ریکارڈ بدلنے کی کوشش بھی کی ۔

جاہلانہ روئیے‘ حکومت پنجاب محکمہ تعلیم کی داخلہ پالیسی اور سرکاری امور میں عدم دلچسپی جیسے الزامات کی ثابت ہو جانے پر کمیٹی نے کرپٹ خاتون آفیسر کے خلا ف پیڈا ایکٹ 2006کے تحت کاروائی کرنے کی سفارش کی ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ریاض احمد چیمہ نے فوری طور پر ملزم خاتون آفیسر کو اس کے عہدہ سے ہٹا کردفتر بالا کرپورٹ کرنے کی ہدائت کر دی ہے اور مذید کاروائی کے لئے جناب چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لکھ دیا ہے۔