مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی طرف سے ’’ورلڈ ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن سوسائٹی‘‘کا دن منایا گیا

جمعرات مئی 22:14

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی طرف سے ’’ورلڈ ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن سوسائٹی‘‘کا دن منایا گیا،تقریب سے خطاب میں ٹیلی کمیونیکیشن شعبہ کے پروفیسر اور مہران یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر عبدالوحید عمرانی نے کہا کہ اس سال مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلیجنس) کے عنوان سے ورلڈ ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن سوسائٹی کا دن منایا جا رہا ہے جس کی شروعات 1969ع میںاقوام متحدہ کی جانب سے کی گئی انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی وجہ سے انسان ذات کو جہاں فوائد ملے ہیں وہیں نقصان بھی ہوئے ہیں ․ ڈاکٹر عبدالوحید عمرانی نے کہا کہ اس بات کا انتخاب استعمال کرنے والوں کو کرنا ہے کہ ایجاد کا منفی استعمال کرتا ہے یا مثبت، بائیو میڈیکل انجینئرنگ شعبہ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر احسان احمد عرسانی نے کہا کہ 2050ع تک دنیا کا بہترین کتاب کوئی انسان نہیں بلکہ کمپیوٹر خودلکھے گا ․ انہوں نے کہا کہ اس وقت میڈیکل سے لیکر کرائے کی کار یا رکشہ کرانے کے لئے ہمیں ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا پڑتا ہے جو کام انسان کرتے تھے ان کی جگہ اب سافٹ ویئرس اور روبوٹس نے لے لی ہے انہوںنے کہا کہ آنے والا دور آرٹیفیشل انٹیلجنس کا ہے جس کے لئے ہر روز نئی ایجادات ہو رہی ہیں، ٹیلی کمیونیکیشن شعبہ کے چیئرمین ڈاکٹر فیصل کریم شیخ نے کہا کہ موسم کا حال جاننے سے لیکر موبائل کے ذریع قدم گننے تک آرٹیفشل انٹیلجنس کا استعمال کیا جاتا ہے ․ انہوں نے کہا کہ معاشرے اور بہت سے ممالک میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور ایجادات میں اضافہ ہوا ہے، اس موقع پر ڈاکٹر صنم ناریجو اور دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ مہران یونیورسٹی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد میں شرکت کی۔