رمضان المبار ک کے پہلے روز ہی سحر وافطار سمیت طویل لوڈشیدنگ کے باعث روزہ دار شدید اذیت میں مبتلا ہیں ، پاکستان سنی تحریک

جمعرات مئی 22:14

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) پاکستان سنی تحریک کے ضلعی کنوینر محمد عابد قادری و ارکان ضلعی کمیٹی سید ساجد علی کاظمی ،محمد شفیق میئو ،بچل بلوچ سلطانی اور دیگر نے رمضان المبارک کے آغاز سے ہی حیدرآباد میں 12سی14گھنٹے لوڈشیڈنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید گرمی اور رمضان المبار ک کے پہلے روز ہی سحر وافطار کے اوقات سمیت بجلی کی 12سے 14گھنٹے طویل لوڈشیدنگ کے باعث شہری اور روزہ دار شدید اذیت میں مبتلا ہیں موجودہ حکومت نے یزیدیت اور چنگیزیت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں جبکہ حیسکو کا سفید ہاتھی روزہ داروں کا لہو چوس رہا ہے، ایک بیان میں ان رہنمائوں نے کہاکہ پورے شہر میں حیسکو کے درندہ صفت اہلکاروں نے بجلی کی بندش کرکے گھریلو خواتین ،بزرگوں ،اور معصوم بچوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور کئی علاقے ایسے میں جہاں کئی روز سے بجلی کے ٹرانسفارمرز خراب ہیں اوران کی تبدیلی کیلئے حیسکو کا عملہ بھاری رشوت طلب کر رہاہے اور نہ دینے پر لوگ سخت گرمی میں اذیت کی زندگی گذار رہے ہیں لیکن حیسکو کی ظالم انتظامیہ کوئی نوٹس لینے کیلئے تیار نہیں ہے، انہوں نے کہاکہ حیسکوانتظامیہ نے عوام کودہشتگردسمجھ لیاہے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی خوف خدانہیں ہے ،نااہل اورکرپشن میں ڈوبی حیسکوانتظامیہ نے عوام کاسکون چھین لیاہے، شدید گرمی میں بجلی کی بندش کے باعث روزداروں کو نمازوں کے اوقات میں وضو اور افطار کیلئے بھی پانی میسر نہیں پانی کے حصول کیلئے روزدار دربدر مارے مارے پھر رہے ہیں وزیر اعظم کے تمام دعوے دھرے رہ گئے، انہوں نے کہا کہ شدید گرمی میں موجود حکومت نے حیدرآباد کو کربلا بنادیا ہے کرپٹ اور لٹیرے افسران ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر کڑوروں کے ڈٹیکشن بل کا بوجھ صارفین پر ڈالنے میں لگے ہیں لیکن بجلی کی فراہمی ممکن بنانے کیلئے تیار نہیں، حیسکوکی لاپروائی اور بجلی کی طویل بندش کے باعث حیدرآباد کے ہسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں، اگر وفاقی اور صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر حیدرآباد کی حالت زار پر توجہ نہ دی تو کئی انسان زندگی کی بازی ہار جائیں گے اور کثرت اموات کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہو گی۔