پنجاب اسمبلی کے آخری اجلاس میں حکومتی ، اپوزیشن اراکین الوداع ہونے کے لمحات میں دست و گریبان ہو گئے

نا زیبا الفاظ کے استعمال پر طارق گل، شہزاد منشی اور عارف عباسی گتھم گتھا ہو گئے ، دونوں جانب سے اراکین بیچ بچائو کراتے رہے حکمران جماعت کے اقلیتی اراکین کاعارف عباسی کے نازیبا الفاظ کے استعمال پر ایوان کی کارروائی سے واک آئوٹ ،احتجاج کیا قائد حزب اختلاف اقلیتی اراکین کو منا کر ایوان میں واپس لے آئے ، عارف عباسی نے بھی اپنے الفاظ واپس لیتے ہوئے معذرت کر لی پنجاب اسمبلی نے صوبائی حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کو سراہنے کی قرارداد منظور کر لی ،شہباز شریف اور نواز شریف کو بھرپور تحسین پیش کی گئی نواز شریف کے حالیہ بیان کو اپنے معنی پہنا کر بھارتی میڈیا کی ہرزہ سرائی قابل مذمت ہے ،مستقبل کے منصوبے سی پیک کے معمار محمد نواز شریف کا کردار قابل تحسین ‘ متن بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف کئے جانے والے آپریشن کے دوران شہید ہونے الے ملٹری انٹیلی جنس کے کرنل سہیل عابد اور حوالدار ثناء اللہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد بھی منظور کر لی گئی ایوان نے 85ارب40کروڑ28لاکھ15ہزار روپے مالیت کی40 ضمنی مطالبات زر کی منظوری دیدی اپوزیشن کی جانب سے مطالبات زر پر 6کٹوتی کی تحاریک ایوان میں جمع کرائی گئیں ،صرف دو ہی پر بحث ہو سکی

جمعرات مئی 22:14

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) پنجاب اسمبلی کے آخری اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین آپس میں گتھم گتھا ہو گئے جس سے ایوان کے ماحول میں شدید تلخی رہی ، حکمران جماعت کے اقلیتی اراکین نے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی عارف عباسی کی جانب سے نازیبا الفاظ کے استعمال پر ایوان کی کارروائی سے واک آئوٹ کر کے پنجاب اسمبلی کے احاطے میں احتجاج کیا ، قائد حزب اختلاف اقلیتی اراکین کو منا کر ایوان میں واپس لے آئے جس کے بعد عارف عباسی نے بھی اپنے الفاظ واپس لیتے ہوئے معذرت کر لی ،،پنجاب اسمبلی کے ایوان نے صوبائی حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی ،،نواز شریف ،،شہباز شریف کی کارکردگی کو سراہنے اور بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف کئے جانے والے آپریشن میں پاک فوج کے کرنل اور حوالدار کی شہادت پر خراج عقیدت پیش کرنے کی قراردادیں منظور کر لیں ، رواں مالی سال 2017-18کا85ارب40کروڑ28لاکھ15ہزار روپے کاضمنی بجٹ بھی پاس کر لیا گیا ۔

(جاری ہے)

پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان نے قواعد کی معطلی کی تحریک کی منظوری کے بعد پنجاب حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کے حوالے سے قرارداد پیش کی ۔ جس کے متن میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان اس امر پر اظہار مسرت کرتا ہے کہ پاکستان میں جمہوری تقاضوں کے مطابق موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کررہی ہیں ۔ یہ ایوان موجودہ پنجاب حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی پر اپنے مکمل اطمینان کا اظہار کرتا ہے ۔

یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستان کے تمام صوبوں کے مقابلے میں صوبہ پنجاب کی کارکردگی سب سے بہتر رہی ہے ۔ حکومت پنجاب نے عوام الناس کی فلاح اور بہبود کے لئے بے شمار عوامی منصوبے شروع کئے جن سے عوام کا معیار زندگی بلند ہوا ۔ پاکستان مسلم لیگ (نواز ) کے صدر اور وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی انتھک محنت ، دیانت داری اور مخلص قیادت میں حکومت پنجاب کی گزشتہ پانچ سال کی ترقی کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور عالمی سطح پر اس کی مثال دی جاتی ہے ۔

وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیر قیادت پنجاب اسمبلی نے تاریخ ساز قانون سازی کرتے ہوئے 191قوانین کی منظوری دی جو ایک ریکارڈ ہے اور پاکستان کی تمام اسمبلیوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے ۔ پنجاب اسمبلی کی شاندار کارکردگی کا سہرا قائد ایوان اور کابینہ سمیت اسپیکر پنجاب اسمبلی ، قائد حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ تمام اراکین اسمبلی کو جاتا ہے ۔

یہ ایوان پاکستان مسلم لیگ (نواز ) کے قائد محمد نواز شریف اور مسلم لیگ (نواز ) کے صدر محمد شہباز شریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار بھی کرتا ہے کہ ان کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (نواز ) آئندہ بھی عوام خدمت کے اس عمل کو آگے بڑھاتی رہے گی ۔ یہ ایوان مسلم لیگ (نواز ) کے قائد محمد نواز شریف کے حالیہ بیان کو اپنے معنی پہنا کر بھارتی میڈیا کی ہرزہ سرائی کی مذمت کرتا ہے اور اس ہرزہ سرائی سے متاثر ہو کر اپنی سیاسی دکانداری چمکانے اور نواز شریف کی عوامی مقبولیت سے خوفزدہ مخصوص لابی کی طرف سے منفی مہم کوئی کو یکسر مسترد کرتا ہے اور پرزور الفاظ میں مذمت کرتا ہے ۔

یہ ایوان پاکستانی عوام کے محبوب ، محب وطن ، ایٹمی پاکستان کے خالق اور معاشی طور پر مضبوط پاکستان کے مستقبل کے منصوبے سی پیک کے معمار محمد نواز شریف کو زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہے ۔ یہ ایوان آئندہ انتخابات 2018ء کے بروقت ،منصفانہ ، شفاف اور آزدانہ انعقاد پر زور دیتا ہے نیز الیکشن کمیشن آف پاکستان اور تمام متعلقہ اداروں سے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے امید کرتا ہے کہ پاکستان ایک جمہوری پاکستان کے طور پر آگے بڑھے ۔

مذکورہ قرارداد پیش کئے جانے کے موقع پر اپوزیشن ایوان میں موجود نہ تھی جس پر حکومت نے اس قراردا دکو کثرت رائے سے منظور کر لیا ۔ وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان نے قواعد کی معطلی کی تحریک کے بعد دوسری قرارداد پیش کی جس کے متن میں کہا گیا کہ 16مئی 2018ء کو بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کئے جانے والے آپریشن کے دوران ملٹری انٹیلی جنس کے کرنل سہیل عابد اور حوالدار ثناء اللہ شہید اور تین جوان زخمی ہو گئے ۔

آپریشن ردالفساد کے تحت سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں دو خود کش بمباروں سمیت تین دہشت گرد ہلاک ہو گئے جن میں پولیس اہلکاروں اور ہزارہ برادری کے ایک سو افراد کو قتل کرنے والا دہشت گرد سلمان بادینی بھی شامل ہے ۔ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان شہید کرنل سہیل عابد اور حوالدار ثناء اللہ کی شجاعت پر ان کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتا ہے نیز زخمی ہونے والے جوانوں کی جلد صحت یابی کے لئے بھی دعا گو ہے ۔

یہ ایوان اس طرح کے واقعات میں ملوث دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور دہشت گردی کے ذمے دار تمام افراد ، ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے خلا نبرد آزما سکیورٹی فورسز ، پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کی جلد کامیابی کی دعا کرتا ہے ۔مذکورہ قرارداد کو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا ۔قبل ازیں پنجاب اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت کی بجائے دو گھنٹے 55منٹ کی غیر معمولی تاخیر سے اسپیکر رانا محمد اقبال خان کی صدارت میں شروع ہوا ۔

اجلاس کے دوران حکمران جماعت کے رکن اسمبلی عمر فاروق نے کہا کہ جاتی امراء میں20کروڑ عوام کا لیڈر رہتا ہے اس لیے وہاں رینجرز کے اہلکار ڈیوٹی دیتے ہیں لیکن بنی گالہ جو تین سو کنال کا محل ہے اس کے ایک ٹیلے پر ناچ گانے دوسرے پر شراب کی محفلیں اور تیسرے ٹیلے کا میں آپ کو بتا نہیں سکتا۔ جس پر ایوان میں ہنگامہ آرائی کا آغاز ہوگیا۔ اس دوران اپوزیشن اراکین کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا ۔

پہلے ان کا جواب لیگی خاتون فرزانہ بٹ دیتی رہیںاور بعد ازاںطارق گل نے کہا نواز شریف پاکستانی قوم کا لیڈر جبکہ آپ کا لیڈر یہودیوں کا لیڈر اور ان کا باپ ہے۔اسی دوران طارق گل کی جانب سے عارف عباسی پر انتہائی نازیبا الفاظ زاستعمال کرنے کا الزام لگایا گیا اور اوراسی بناء پر شہزاد منشی ، طارق گل اور عارف عباسی آپس میں گتھم گتھا ہو گئے ۔

اس دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین بیچ بچائو بھی کراتے رہے ۔اسپیکر رانا محمد اقبال دست و گریبان ہوتے ارکان کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے اور انہوں نے کچھ اراکین کو باہر نکالنے کا بھی حکم دیا ۔ صوبائی وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور خلیل طاہر سندھوں سمیت حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے اقلیتی اراکین اس پر احتجاجاً واک آئوٹ کر کے ایوان سے باہر چلے گئے اور احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عارف عباسی کو معطل کیا جائے ۔

قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید اقلیتی اراکین کو منا کر ایوان میں واپس لے آئے اور ان سے معذرت بھی کی جبکہ عارف عباسی نے بھی اپنے الفاظ واپس لیتے ہوئے ان سے معذرت کر لی ۔قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے ضمنی بجٹ کی منظوری کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت گزشتہ دس سال سے عوام کے خون پسینے کے پیسے کو اپنی عیاشیوں میں اڑا رہی ہے۔

این اے 120کے انتخاب میں اربوں روپے خرچ کر دئیے گئے ۔اس معاملے پر الیکشن کمیشن اور نیب میں جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ہائوس کا روانہ کا خرچہ17لاکھ ہے اس کا حساب بھی دینا ہو گا۔شریفوں نے نا اہل لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات کر رکھا ہے تاکہ وہ ان کے کالے کرتوت چھپا سکیںاور ان کو سپورٹ کر سکیں۔55لاکھ روپے اپنے مفادات کے کام کرنے والے غیر سرکاری وکلاء کو فیسوں کی مد میں ادا کر دئیے گئے ۔

انسداد دہشتگردی کی گاڑیاں اور سکواڈ شریف فیملی کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے کام کررہی ہیں۔ضمنی بجٹ میں لیگی رکن چوہدری اقبال،میاں رفیق،حامی عمر فاروق،فائزہ ملک ،نبیلہ حاکم،آصف محمود ،سعدیہ سہیل ،،ڈاکٹر نوشین حامد،عارف عباسی نے تقریریں کی۔بحث کے بعد اپوزیشن کی جانب سے مطالبات زر پر 6کٹوتی کی تحاریک ایوان میں جمع کرائی گئیں جن میں صرف دو ہی پر بحث ہو سکی باقی گلوٹین کے قانون کے تحت نمٹا دی گئیں۔

بعد ازاںایوان سے 85ارب40کروڑ28لاکھ15ہزار روپے مالیت کی40 ضمنی مطالبات زر کی منظوری دی گئی اورپنجاب اسمبلی نے مالی سال 2017-18ء کا ضمنی بجٹ مجموعی حجم 85ارب40کروڑ28لاکھ15ہزار روپے حجم کا ضمنی بجٹ منظور کرلیا ۔ دستاویز کے مطابق لینڈ ریو نیو کی مد میں9کروڑ60لاکھ5ہزار، صوبائی ایکسائز کی مد میں 12کروڑ64لاکھ43ہزارروپے، جنگلات کی مد میں5کروڑ66لاکھ30ہزار روپے،چارجز برائے اکائونٹ موٹر وہیکل ایکٹ 5کروڑ52لاکھ52ہزارروپے،ار ی گیشن اور لینڈ ریکلیمیشن 2ارب75کروڑ92لاکھ89ہزار روپے،ایڈمنسٹریشن آف جسٹس کی مد میں 82کروڑ27لاکھ41ہزار روپے،جیلز اینڈ کنوکٹس سیٹلمنٹس کی مد میں 5کروڑ25لاکھ63ہزار روپے،،پولیس کی مد میں 5ارب60کروڑ76لاکھ51ہزار روپے،،تعلیم کی مد میں19ارب86کروڑ33لاکھ17ہزار روپے،صحت کی مد میں 17ارب16کروڑ27لاکھ57ہزار روپے،زراعت کی مد میں 7ارب60کروڑ36لاکھ19ہزار روپے،فشریز کی مد میں7کروڑ65لاکھ،ویٹرنری کی مد میں1ارب 69کروڑ89لاکھ43ہزار روپے،کو آپریشن کی مد میں 15کروڑ89لاکھ12ہزار روپے،انڈسٹریز کی مد میں 75کروڑ88لاکھ38ہزار روپے، متفرق محکمہ جات کی مد میں50کروڑ3لاکھ79ہزار روپے،سول و رکس کی مد میں 1ارب 44کروڑ75لاکھ64ہزار روپے،کمیونیکیشز58کروڑ54لاکھ30ہزار روپے،سٹیشنری اینڈ پرنٹنگ کی مد میں 10لاکھ62ہزارروپے، سول ڈیفنس کی مد میں3کروڑ9لاکھ97ہزار روپے،غلے اور چینی کی ریاستی خریداری کی مد میں 18کروڑ 91لاکھ74ہزار روپے،اریگیشن ورکس کی مد میں 2ارب84کروڑ59لاکھ81ہزار روپے، شاہراہوں پلوں کی مد میں19ارب 10کروڑ47لاکھ6ہزار روپے جبکہ ٹوکن سپلیمنٹری ڈیمانڈ ز (ووٹڈ)کے لئے Opiumایک ہزار روپے، سٹیمپس کی مد میں ایک ہزار روپے، رجسٹریشن کی مد میں ایک ہزار روپے، دیگر ٹیکسز اور ڈیوٹی کی مد میں ایک ہزار روپے ،جنرل ایڈ منسٹریشن کی مد میں ایک ہزار،میوزیم ایک ہزار روپے، پبلک ہیلتھ ایک ہزار روپے، ہائوسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ ایک ہزار روپے، ریلیف ایک ہزار وپے،سبسڈیز ایک ہزار روپے، متفرق ایک ہزار روپے، سٹیٹ ٹریڈنگ برائے میڈیکل سٹور اور کوئلہ ایک ہزار روپے،ڈویلپمنٹ ایک ہزار روپے،زراعت کی ترقی اور تحقیق ایک ہزار روپے، ٹائون ڈویلپمنٹ ایک ہزار روپے،سرکاری عمارتوں کی مد میں ایک ہزار،میونسپلیٹریز اور خود مختاری باڈیز کی مد میں ایک ہزار روپے جبکہ سپلیمنٹری ڈیمانڈز(چارجرڈ) جنرل ایڈ منسٹریشن کی مد میں ایک ہزار روپے،ایڈ منسٹریشن آف جسٹس کی مد میں 8کروڑ24لاکھ80ہزار،سول ورکس کی مد میں2کروڑ20لاکھ،قرضوں پر سود اور دیگر ادائیگیوں کی مد میں 1ارب77کروڑ،62لاکھ6ہزار روپے جبکہ وفاقی حکومت کے قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 1ارب 91کروڑ73لاکھ58ہزار روپے کے اخراجات کی منظوری دی گئی ۔