امریکا میں شرحِ پیدائش 30 سال کی کم ترین سطح پر

جمعہ مئی 10:10

واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) امریکا میں 2017ء کے دوران شرحِ پیدائش 30 سال کی کم ترین سطح پر رہی اور 30 کے پیٹے تک کی خواتین میں ماں بننے کے رجحان میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں 2014ء سے شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی آرہی ہے تاہم 2017ء کے دوران اس میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2017ء کے دوران امریکا میں ایک سال قبل کے مقابلے میں 92 ہزار کم بچے پیدا ہوئے۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق امریکہ میں گزشتہ سال 38 لاکھ سے زائد بچوں کی پیدائش کا اندراج کرایا گیا اور یہ تعداد 1987ء کے بعد امریکا میں ایک سال کے دوران پیدا ہونے والے کل بچوں کی کم ترین تعداد ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شرحِ پیدائش میں کمی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں سرِ فہرست نوجوان لڑکیوں میں ماں بننے کی خواہش اور رجحان میں کمی اور تارکینِ وطن کی آبادی میں آنے والی تبدیلیاں ہیں۔امریکا میں تارکِ وطن خاندانوں میں شرحِ پیدائش مقامی آبادی کی نسبت خاصی بلند ہے اور ہر سال امریکہ بھر میں جنم لینے والے کل بچوں میں سے ایک چوتھائی تارکِ وطن خاندانوں میں جنم لیتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :