شریف خاندان کے بیانات ریکارڈ نہ ہوسکے‘ایوان فیلڈ ریفررنس پر سماعت ملتوی

کچھ سوالات کی درستگی چاہتے ہیں-خواجہ حارث‘وکیل صفائی وقت ضائع کررہے ہیں-نیب پراسیکیوٹر

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ مئی 10:57

شریف خاندان کے بیانات ریکارڈ نہ ہوسکے‘ایوان فیلڈ ریفررنس پر سماعت ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔18 مئی۔2018ء) سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ سب کا حساب ہو گا، ہم سب کو حساب دینا ہو گا۔احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر انہوں نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے بیان کے جواب میں کہا کہ صرف ہمیں ہی نہیں سب کو حساب دینا ہوگا-قبل ازیں احتساب عدالت نے نواز شریف اور دیگر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی ہے۔

سماعت ملتوی ہونے کے باعث سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف،، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے بیانات آج قلمبند نہ ہو سکے۔ سماعت کے دوران ملزمان کو دیے گئے سوالنامے پر ان کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراض کر دیا، ان کا کہنا ہے کہ کچھ سوالات میں درستگی کرنی ہے، سمجھ نہیں آ رہا۔

(جاری ہے)

پراسیکیوٹر نیب نے الزام عائد کیا کہ وکیل صفائی خواجہ حارث عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں، ہم تعاون کر رہے ہیں لیکن وکیل صفائی ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ عدالت نے پچھلی سماعت پربجلی نہ ہونے پراے سی بندکرکے سوالنامہ بنایا،پنکھے اور لائٹیں بھی بند کیں تاکہ کمپیوٹر چل جائے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اس موقع پر کہا کہ پیر کو آخری چانس ہے، اس روز ملزمان کے بیانات قلمبند ہوں گے۔واضح رہے کہ ایون فیلڈپراپرٹیز ریفرنس آخری مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں آج ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں نواز شریف،، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے بیانات ریکارڈ کیے جانے تھے اور احتساب عدالت نے نواز شریف اور ان کی بیٹی و داماد کو سوالنامہ بھی جاری کردیا تھا۔سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کررہے ہیں۔

گزشتہ سماعت پر احتساب عدالت نے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں نوازشریف،، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے بیانات جمعے کو ریکارڈ کرنے کا فیصلہ سنا یا تھااور ملزمان کوسوالنامے دیئے تھے۔گزشتہ سماعت پر ہی العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس میں جے آئی ٹی سے سربراہ واجد ضیاءپر نواز شریف کے وکیل نے جرح کا آغاز کردیا تھا۔واجد ضیاءنے جرح کے دوران بتایا تھا کہ یہ درست ہے کہ ہل میٹل اور حسین نواز سے نواز شریف کو ملنے والی کوئی رقم ایسی نہیں جوگوشواروں میں درج نہ ہو۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نواز شریف اِنکم ٹیکس اور ویلتھ ٹیکس کے گوشواروں کے ساتھ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے، 2013ءاور 14کے ویلتھ گوشواروں میں نواز شریف نے 4کروڑ 14 لاکھ روپے کی غیر ممالک سے موصول رقم ظاہر کی انہیں یہ رقم حسین نواز سے ملی تھی۔واجد ضیاءنے یہ بھی بتایا کہ دو بینکوں سے نواز شریف کے اکاﺅنٹس کی مکمل اسٹیٹمنٹ حاصل کی مگر جے آئی ٹی رپورٹ میں وہ حصہ لگایا گیا جو متعلقہ تھا۔نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر سماعت ملتوی ہونے کے بعداحتساب عدالت سے روانہ ہوگئے۔