تحریک حریت کی طرف سے کشمیری شہری کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی شدید مذمت

جمعہ مئی 12:10

سرینگر۔مئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) تحریک حریت جموںو کشمیر نے کشمیری شہری منظور احمد خان کی گزشتہ 2سال سے مسلسل غیر قانونی نظربندی ، محمد رفیق راتھر اور مشتاق احمد ملہ کی گرفتاری کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قابض انتظامیہ کشمیری عوام خاص طورپر نو جوانوں کو بدترین ریاستی سیاسی انتقام کا نشانہ بنارہی ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تحریک حریت کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں افسوس ظاہرکیاکہ آزادی پسندوں کو سالہاسال تک جیلوں میں نظربند رکھا جاتا ہے ۔

انہوںنے کہاکہ جبکہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے ہر دور میں اپنے سیاسی مخالفین اور خصوصاً آزادی پسندوں کو بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا ہے ۔ انہوںنے منظور احمد خان پہلے بھی11سال تک غیر قانونی طورپرنظربندرکھاجاچکا ہے اور انہیں 2015ء میں جیل سے رہا کیاگیا تھا ۔

(جاری ہے)

تاہم انہیں 2016ء میں دوبارہ گرفتار کرکے سرینگر سینٹرل جیل منتقل کردیاگیا ۔

انہوںنے کہاکہ ان کی معمراورعلیل والدہ بسترِ مرگ پر زندگی کی آخری سانسیں لے رہی ہیں اور اپنے بیٹے کی راہ تک رہی ہیں مگر سنگدل اور جابرحکمران منظور احمد کی رہائی میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ ترجمان نے منظور احمد خان کی فوری رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اُن کی والدہ بسترِ مرگ پر ہے اورانکااس دنیا میںاورکوئی نہیں ہے جو انکی تیمارداری کر سکے لہذا ان کے واحد سہارے منظور احمد کو فوری طورپر سرینگر سینٹرل جیل سے رہا کیاجانا چاہیے۔انہوںنے بانڈی پورہ کے علاقے اجس کے رہائشیوں محمد رفیق راتھر اور مشتاق احمد ملہ کی گرفتاری کی بھی شدید مذمت کی ۔

متعلقہ عنوان :