امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی عالمی قوانین کے منافی ہے، سعودی وزیر خارجہ

عالمی سطح پر امریکی فیصلہ مسترد کیا جاچکا، مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت میں تبدیلی کا کوئی قانونی جواز نہیں،عرب وزرائے خارجہ

جمعہ مئی 12:26

قاہرہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ امریکی سفارت خانے کی یروشلیم ( مقبوضہ بیت المقدس ) میں منتقلی بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے،ہم امریکا کے اس اقدام کے مسترد کرتے ہیں اور اس کو فلسطینی مفادات کے خلاف متعصبانہ سمجھتے ہیں ۔میڈیارپورٹس کے مطابق وہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں گفتگو کر رہے تھے ۔

اجلاس میں امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی اور غزہ میں اسرائیلی فوج کی نہتے فلسطینی مظاہرین کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا گیا ۔۔سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر امریکا کے اس فیصلے کو مسترد کردیا گیا ہے اور مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت میں تبدیلی کی کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔

(جاری ہے)

ان کا اشارہ امریکا کے یروشلیم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کی جانب تھا۔انھوں نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ فلسطینی کاز ( نصب العین ) کی حمایت سعودی مملکت کی اولین ترجیح ہے اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز یہ بات زور دے کر کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق دلانے کے لیے حمایت میں کسی تردّد کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔

اجلاس میں عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے قبضے کے جرائم کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے فیصلے کو ہر سطح پر مسترد کردیا گیا ہیاور اس غیر ذمے دارانہ فیصلے سے پورا خطہ ہی کشیدگی کی لپیٹ میں آجائے گا ۔انھوں نے جمہوریہ گوئٹے مالا کے امریکا کی تقلید میں اپنا سفارت خانہ یروشلیم منتقل کرنے کے فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عرب لیگ اس ملک کے اقدامات کی مذمت کرتی ہے اور ان پر افسوس کا اظہار کرتی ہے ۔

اس ملک اور ایسا ہی اقدام کرنے والے دوسرے ممالک کے ساتھ عرب لیگ کے رکن ممالک کے تعلقات پر نظر ثانی کی جائے گی ۔اجلاس میں متحدہ عرب امار ات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے غزہ میں فلسطینیوں کے قتل ِ عام کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہم فلسطینیوں کو بچانے کے لیے فوری عالمی مداخلت پر زور دیں گے۔انھوں نے تجویز پیش کی کہ عرب ممالک کو امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے ردعمل میں واشنگٹن سے اپنے اپنے سفیروں کو واپس بلا لینا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ واشنگٹن سے عرب ممالک کے سفیروں کو مشاورت کے لیے واپس طلب کرنے سے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔مصری وزیر خارجہ سامح شکری کا کہنا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں کسی ملک کے سفارت خانے کی منتقلی بدستور ایک کالعدم فیصلہ ہی رہے گی ۔اردنی وزیرخارجہ ایمن صفادی کا اجلاس میں کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلائے بغیر خطے میں کوئی امن ہوسکتا ہے اور نہ سلامتی کی ضمانت دی جائے۔