ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہورہاہے،شامی صدرکی روسی ہم منصب سے ملاقات

شامی وفد اقوام متحدہ جاکر دستور میں اصلاحات سے متعلق مذاکرات کرے گا،بشارالاسدنے پیوتن کوآگاہ کردیا

جمعہ مئی 12:26

سوچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) جنگ سے تباہ حال ملک شام کے صدر بشار الاسد غیر علانیہ دورہ پر روس گئے جہاں انھوں نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوتن سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات بحیرہ اسود کے سیاحتی مقام سوچی میں ولادیمیر پیوتن کی سرمائی رہائش گاہ پر ہوئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کریملن کی جانب سے جاری کردہ ملاقات کی تفصیل میں صدر اسد کے حوالے سے بتایا گیا کہ ملک سے دہشت گردی خاتمے کی کوششوں میں انہیں کامیابی حاصل ہو رہی ہے جس کی وجہ سے سیاسی عمل کے راستے ہموار ہو رہے ہیں۔

صدر پیوتن کے ترجمان دمتری پسکوف نے بتایا کہ ملاقات میں شامی صدر نے روسی رہنما کو اقوام متحدہ اپنا وفد بھیجنے سے متعلق فیصلے سے آگاہ کیا جہاں وہ شامی دستور میں اصلاحات سے متعلق مذاکرات میں شرکت کرے گا۔

(جاری ہے)

شام میں جاری بحران حل کی خاطر عالمی ادارے کے تحت جنیوا میں مذاکرات کے متعدد دور ہو چکے ہیں، تاہم ان قضیہ کے خاتمے میں ابتک کوئی مدد نہیں مل سکی۔

شامی صدر کے فیس بک اکاونٹ پر پوسٹ کردہ خبر کے مطابق سوچی میں ہونے والے اسد-پیوتن ملاقات میں دونوں رہنماوں نے باہمی دلچسپی کے کئی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع شام میں ہونے والی تازہ سیاسی اور فوجی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔شامی صدر کے فیس بک اکاونٹ کے مطابق انھوں نے صدر پیوتن کو بتایا کہ وہ جلد ہی اقوام متحدہ اپنے نمائندوں کی فہرست بھیجیں گے جو شامی دستور میں اصلاحات کے حوالے سے کمیٹی میں شامل کئے جائیں گے۔

سوشل میڈیا کے مطابق روس نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہہ وہ سوچی میں ہونے والے قومی مذاکرات میں طے پانے والے معاہدوں کی روشنی میں اس پیش رفت پر خوش ہے۔دونوں رہنماوں نے شام میں روس کی جانب سے معاشی تعاون اور بڑھتی ہوتی روسی سرمایہ کاری سے متعلق بھی بات کی۔ شام میں سات برس سے جاری خانہ جنگی کے دوران روس ایک سکہ بندی اتحادی کے طور پر بشار الاسد کا ساتھ دے رہا ہے۔ سنہ 2015 میں روس نے شامی فوجیوں کی مدد کی خاطر فضائی حملوں میں شرکت کی جس کے بعد سے صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔