جامعات میں انتظامی عہدے پر کوئی بھی تعیناتی گورنر پنجاب کی منظوری کے بغیر نہیں کی جاسکتی،

لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی میں آئندہ دوہفتے تک مستقل وائس چانسلر کی تقرری کردی جائیگی۔ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بیرسٹر نبیل اعوان

جمعہ مئی 13:01

لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) صوبائی دارلحکومت لاہور میں خواتین کی ٹاپ یونیورسٹی انتظامی بحران کا شکار ،،لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی میں وائس چانسلر ، رجسٹرار، خزانچی،کنٹرولر امتحانات ،چیف سیکورٹی آفیسر سمیت تمام اہم اور حساس عہدے عارضی چارج پر، ، یونیورسٹی کے انتظام وانصرام چلانے کیلئے سنڈٖیکیٹ بھی نامکمل،یونیورسٹی میں سیکورٹی کے موثر انتظامات نہ ہونے سے طالبات کی سیکورٹی سوالیہ نشان بن گئی،تفصیلات کے مطابق لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی میں سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹر صبیحہ منصور نے 10فروری2015کو عبدالغفار علی کو قائم مقام خزانہ دار کی اہم ترین آسامی پرغیر قانونی طورپرتعینات کیا ،آئینی طورپر کسی بھی اہم ترین اور بڑ ی جامعہ میں انتظامی عہدہ پر تعیناتی کیلئے چانسلر (گورنرپنجاب)کی منظوری لینا ضروری ہوتا ہے لیکن لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی میں الٹی گنگا بہنے لگی ہے ،جہاں گورنر پنجاب کی منظوری کے بغیر ہی خزانچی کی آسامی پر گزشتہ تین سال سے عبد الغفار کو تعینات کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی میں مستقل رجسٹرار کی آسامی بھی کئی سالوں سے خالی ہے جس پرباقاعدہ تقرری نہیں کی گئی ، 4فروری 2015ء سے جامعہ میں ایڈیشنل رجسٹرارعظمیٰ بتول مگسی کو قائم مقام رجسٹرار تعینات کیا گیا ہے جس کی وجہ سے مختلف شعبہ جات میں لڑائی جھگڑے اورایک دوسرے کیخلاف درخواست بازی نے جامعہ میں انتظامی بحران کی کیفیت پیدا کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق شعبہ انوائرمینٹل سائنسز کی سربراہ ڈاکٹر طاہرہ مغل کو قائم مقام کنٹرولر امتحانات تعینات کیا گیا ہے،جو 10ستمبر 2014ء سے اضافی چارج سے امتحانات کے انتہائی حساس شعبہ کو چلا رہی ہیں،انکی قائم مقام تعیناتی سے نہ صر ف انکا اپنا شعبہ متاثر ہورہا ہے جبکہ شعبہ امتحانات کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ذرائع کے مطابق لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی میں چار اہم ترین ڈینز کی آسامیاں بھی خالی ہیں جس کی وجہ سے ان شعبہ جات کی کارکردگی شدید متاثر کن ہے ،جبکہ بائیو ٹیکنالوجی کی سربراہ ڈاکٹر شگفتہ نازکو ڈائریکٹر ریسرچ کا اضافی چارج دیا گیاہے حالانکہ ان پر مقالہ چوری الزام کی جھوٹی شکایت پرایچ ای سی کی طرف سے محکمانہ کاروائی کی سفارش کی گئی ہے اس کے باوجود انکو اہم ترین شعبہ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی میں 5اکتوبر 2017ء سے سی ایس او کی اہم ترین آسامی بھی خالی ہے،گزشتہ ایک سال سے چیف سیکورٹی آفیسر کی خالی آسامی پر تعیناتی نہ ہونے پر جامعہ کی سیکورٹی کا پول کھل گیا ہے،جبکہ پرووائس چانسلر کی عدم تعیناتی سے بھی جامعہ میں ملازمین کی پروموشن،سنیارٹی سمیت دیگر تمام امور متاثر ہیں۔ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی کے انتظام وانصرام چلانے کیلئے سینڈٖیکیٹ بھی نامکمل ہے ،جامعہ میں سینڈیکیٹ کے کل 26ارکان میں سے اسوقت صرف 16ارکان موجود ہیں جبکہ3ڈینز،ملحقہ کالجز کے پرنسپلز اور ڈائریکٹر سمیت10سینڈیکیٹ ارکان کی تعیناتی نہیں ہوسکی جو یونیورسٹی کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بیرسٹر نبیل اعوان نے اے پی پی کوبتایا کہ جامعات میں انتظامی عہدے پر کوئی بھی تعیناتی گورنر پنجاب کی منظوری کے بغیر نہیں کی جاسکتی،،لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی میں آئندہ دوہفتے تک مستقل وائس چانسلر کی تقرری کردی جائیگی۔