جرمنی میں ایک ہی افسرکا دو ہزار مہاجرین کوپناہ دینے کا اسکینڈل منظر عام پر آگیا

جرمن وزارت داخلہ کا مذکورہ افسرکا دفاع، ملازمین ایک اہم شعبے میں انتہائی اچھا کام کر رہے ہیں،ردعمل

جمعہ مئی 13:27

برلن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن کے ایک ہی اہلکار کی طرف سے تقریبا دو ہزار مہاجرین کو نامناسب طریقے سے پناہ دیے جانے کے اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد وفاقی وزارت داخلہ نے اس ادارے کا دفاع کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمن وفاقی وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن (بی اے ایم ایف) کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اپنا کام انتہائی مستعدی اور بہتر طریقے سے ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس ادارے کے ملازمین ایک اہم شعبے میں انتہائی اچھا کام کر رہے ہیں۔زیہوفر نے مزید کہا کہ بی اے ایم ایف کے کسی ایک اہلکار کے نامناسب رویے کی وجہ سے اس ادارے کی طرف سے سرانجام دی جانے والی خدمات پر سوال نہیں اٹھانا چاہیے۔

(جاری ہے)

حکام کے مطابق اس کیس کی چھان بین کے سلسلے میں اسی دفتر کے دیگر پانچ اہلکاروں کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔

کچھ پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے غالبا رشوت لیتے ہوئے نامناسب طریقے سے پناہ کے یہ کاغذات جاری کیے۔اس معاملے میں سیاسی رنگ اس وقت آیا، جب بی اے ایم ایف کے بریمن دفتر کی ڈائریکٹر جوزفا شمٹ کو انتظامی (جبری) رخصت پر بھیجا گیا۔ شمٹ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس اسکینڈل کے تناظر میں اپنے پیش رو کے مبینہ غلط کاموں کے بارے میں وزارت داخلہ کو مطلع کرنے کی کوشش کی تھی۔