کرپشن سکینڈل،ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم رزاق کے گھر کی 18گھنٹے تک تلاشی

سابق وزیر اعظم کے دفتر، ماضی میں استعمال میں رہنے والے ایک گھر اور ان کے خاندان سے منسلک دو اپارٹمنٹس کی تلاشی لی گئی

جمعہ مئی 13:27

کوالالمپور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) ملائیشیا کی پولیس نے حال ہی میں وزارت عظمیٰ سے الگ ہونے والے نجیب رزاق کے گھر اور ان سے وابستہ دیگر مقامات کی تلاشی لی ہے۔ یہ کارروائی ملائیشیا کے سرکاری فنڈز میں خٴْرد برد کے الزام کے تناظر میں کی گئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق پولیس رات گئے پولیس نجیب رزاق کے خاندانی گھر میں داخل ہوئی۔

پولیس کی یہ کارروائی براہ راست اسٹریم کی گئی اور ہزارہا افراد نے اسے براہ راست دیکھا۔ یہ ایک ایسا غیر معمولی واقعہ ہے جس کے بارے میں چند ماہ قبل تک سوچا جانا بھی شاید ممکن نہیں تھا۔ نجیب رزاق کے سیاسی اتحاد کو ملائیشیا میں نو مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔۔پولیس کے کمرشل کرائم انویسٹی گیشن شعبے کے ڈائریکٹر امر سنگھ نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم کے دفتر، ماضی میں استعمال میں رہنے والے ایک گھر اور ان کے خاندان سے منسلک دو اپارٹمنٹس کی تلاشی لی گئی۔

(جاری ہے)

امر سنگھ کے مطابق ہم معلومات جمع کرنے کے عمل میں ہیں، ہم جب تلاشی کا عمل مکمل کر لیں گے تو ہمارے پاس مزید معلومات ہو گی۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ تلاشی کا یہ عمل کرپشن اسکینڈل کے تناظر میں کیا گیا جو 2015ء سے نجیب رزاق کے لیے مشکل کا باعث بنا ہوا ہے۔نجیب رزاق کے ایک وکیل ہرپال سنگھ نے بتایا کہ پولیس کی طرف سے تلاشی کا یہ عمل قریب 18 گھنٹے تک جاری رہا۔ سنگھ نے اس کارروائی کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا۔

متعلقہ عنوان :