حمزہ شہباز نے صاف پانی کیس میں نیب کے سامنے پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرادیا،

تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک پوچھ گچھ کی گئی صاف پانی کمپنی بورڈ کا ممبر نہیں، 5 اجلاسوں میں شرکت کی، کوئی قانون سے بالاتر نہیں ،ہمارا دامن صاف ہے‘رکن قومی اسمبلی کی میڈیا سے گفتگو

جمعہ مئی 15:14

حمزہ شہباز نے صاف پانی کیس میں نیب کے سامنے پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرادیا،
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز نے صاف پانی کیس میں نیب لاہور کے سامنے پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرادیا۔بتایا گیا ہے کہ حمزہ شہباز کو نیب لاہور کی جانب سے صاف پانی کے کیس میں طلب کیا گیا تھا جس پر وہ جمعہ کی صبح 11 بجے نیب کے دفتر پہنچے۔نیب کی تین رکنی ٹیم میں ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹی گیشن، ڈپٹی ڈائریکٹر پراسیکیوشن اور ڈپٹی ڈائریکٹر انٹیلی جنس نے حمزہ شہباز سے پوچھ گچھ کی جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔

ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے حمزہ شہباز کو ایک سوالنامہ بھی دیا گیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز پر الزام ہے کہ انہوں نے صاف پانی سے متعلق کئی اہم میٹنگز میں حصہ لیا اور اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے نہ صرف بورڈ آف ڈائریکٹر کی میٹنگز کی صدارت کی بلکہ واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانے کی بھی ہدایت کی۔

(جاری ہے)

نیب کو بیان ریکارڈ کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ صاف پانی کمپنی بورڈ کا ممبر نہیں، 5 اجلاسوں میں شرکت کی، کوئی قانون سے بالاتر نہیں اور ہمارا دامن صاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے دور میں جب 18 سال کا تھا تب 6 ماہ جیل کاٹنا پڑی، مشرف دور میں 10 سال نیب کے دفتر کے سامنے بیٹھتا رہا، چیئرمین نیب نے کہا کہ ہمارے خاندان کے خلاف فائلیں کھنگالنے کے باوجود کوئی ثبوت نہیں ملا۔ہم قانون کا احترام کریں گے، اس وقت بھی سرخرو ہوئے اور آج بھی ہوں گے۔۔حمزہ شہباز نے کہا کہ پاکستانی عوام آصف زرداری کے سوئس اکائونٹ کو بھی نہیں بھولی، عمران خان سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرتے رہے، جہانگیر ترین نے قرض معاف کرائے اور علیم خان قبضہ گروپ ہے، سب کو بلایا جائے اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہونا چاہیے۔