ایبٹ آباد میں 1979ء سے تعلیمی خدمات کا آغازکرنے والا ادارہ ایوب میڈیکل کالج میڈیکل یونیورسٹی بننے کا منتظر، لیکچر روم میں الیکٹرانکس بورڈز کی تنصیب اور جدید آڈیٹوریم کی تعمیر کالج کے اگلے اہداف میں شامل ہیں، سٹوڈنٹس ٹیچر سنٹر اور نئے کالج ریسٹ ہاؤس کی دو منزلہ عمارات کیلئے نیسپاک کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں، ڈاکٹر عزیز النساء

جمعہ مئی 15:49

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) ایبٹ آباد میں 1979ء سے تعلیمی خدمات کا آغازکرنے والا ادارہ ایوب میڈیکل کالج تمام لوازمات پر پورا اترنے کے باوجود میڈیکل یونیورسٹی بننے کا منتظر ہے۔ گذشتہ تین برسوں کے دوران ادارہ کے نظام کار میں واضح تبدیلیاں اور اصلاحات سامنے آئی ہیں جن کے تحت پروکیورمنٹ اور ہیومن ریسورس کے ساتھ ساتھ سٹوڈنٹس اکائونٹس کے شعبہ جات کا اضافہ شامل ہے جبکہ بائیو میٹرک حاضری سسٹم سے نہ صرف سٹاف حاضریوں اور خدمات میں بہتری آئی ہے بلکہ طلباء کی حاضری اور نتائج پر بھی مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔

کالج کے پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق کے پراجیکٹ’’ایک بہتر کل کیلئے صحتمند کل‘‘ بھی ہائیر ایجوکیشن کمشن کی طرف سے 24 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

کالج کی سطح پر تعلیمی سال 2016-17ء کے دوران 69 پبلی کیشنز سامنے آئیں۔ کالج کی لائبریری30 ہزار کتابوں پر مشتمل ہونے کے ساتھ ساتھ جدید آئی ٹی سہولیات سے لیس ہے۔ پشاور میں قائم صوبہ کی واحد خیبر میڈیکل یونیورسٹی سے منسلک اس ادارہ سے اب تک 6 ہزار کے لگ بھگ ڈاکٹر فارغ التحصیل ہو چکے ہیں جبکہ برطانیہ کی میڈیکل کونسل کے ساتھ بھی کالج کا الحاق سال 1985ء سے موجود ہے۔

250 ایم بی بی ایس اور 25 بی ڈی ایس سالانہ داخلے مہیا کرنے والے ایوب میڈیکل کالج میں اس وقت 1500 طلبا زیر تعلیم ہیں جن میں سے 150 پوسٹ گریجویٹ اور دیگر انڈر گریجویٹ ہیں، 5 سالہ میڈیکل اور ڈینٹل ڈگری کی تعلیم دینے والے اس کالج میں 726 افراد کا سٹاف تعینات ہے جن میں سے 145 بنیادی فیکلٹی، 98 کلینیکل فیکلٹی، 52 پیرا میڈیکس اور 431 نان ٹیچنگ سٹاف ہے۔

کالج سے متصل ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے اشتراک کے بعد دونوں ادارے ایوب میڈیکل انسٹی ٹیوشن کے نام سے سالانہ کئی ملین افراد کو صحت کی سہولیات مہیا کرنے میں مصروف عمل ہیں جہاں 1000 بیڈ پر مبنی ہسپتال جدید زچہ بچہ ہسپتال کی تعمیر کے بعد 1400 بیڈ تک جا پہنچا ہے۔ ادارہ میں موجود سہولیات اور کارکردگی سے متعلق ایک تعارفی بریفنگ کے دوران ڈین پروفیسر ڈاکٹر عزیزالنساء نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ میڈیکل، ڈینٹل، پیرا میڈیکل اور نرسنگ سکول ادارے میں قائم ہیں۔

علاوہ ازیں جدید گائنی امتحان کا اہتمام بھی مقامی سطح پر کیا جاتا ہے، ہسپتال میں گائنی چیپٹر کے مستقل اجراء کے بعد سال 1994ء کے دوران 4 گائنی ماہرین کا عملہ اب 30 تک جا پہنچا ہے۔ ڈاکٹر عزیزالنساء نے بتایا کہ صوبہ میں ایم ٹی آئی سسٹم نفاذ کے بعد ادارہ میں کئی ایک تبدیدلیاں لائی گئیں اور اکیڈیمک کونسل کے ساتھ ساتھ کئی کمیٹیاں اور سب کمیٹیاں تشکیل دیکر نظام کار کو فعال بنایا گیا اور عمارات کی تزئین و مرمت کی مد میں کروڑوں روپے خرچ کر کے خستہ حال عمارات کو جدید تقاضوں سے مزین کیا گیا، ہاسٹلوں کے باتھ روم اور لیکچر ہال پسماندگی کی تصویر بن چکے تھے جنہیں رینوویٹ کر کے قابل دید بنا دیا گیا ہے۔

کالج میں نکاسی آب کے دیرینہ مسئلہ کے کامیاب حل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عرصہ دراز سے یہ مسئلہ درد سر بنا ہوا تھا جسے کنٹونمنٹ بورڈ کی مدد سے صفائی کے بعد گذشتہ ڈیڑھ سال سے یہاں پانی جمع ہونے کا سدباب کر لیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عزیز النساء نے جدید زچہ و بچہ ہسپتال کے اجراء میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جاپان، جرمنی اور امریکہ و برطانیہ سے درآمد شدہ مشینری سے متعلق جھوٹا پروپیگنڈا کر کے اسے کھولے بغیر ہی غیر معیاری قرار دینے کی مذموم کوششیں بالآخر ناکام ہوئیں تاہم سال 2013ء کی بجائے اب اس کے آغاز سے عوام کو شدید نقصان ہوا۔

ادارہ کے ماڈیولر سسٹم میں تبدیلی اور ایمرجنسی سہولیات میں بہتری کو آئندہ اہداف سے تعبیر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یورپ کی طرح ایمرجنسی سہولت مضبوط بنا کر ہم ہسپتال آنے والے مریضوں کو بہتر سہولت دے سکتے ہیں کیونکہ ہسپتال میں روزانہ 50 تا 60 آپریشن کئے جاتے ہیں جن میں سے نصف ایمرجنسی ہوتے ہیں۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اور دیگر ہسپتالوں میں ریفرل سسٹم بہتری پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ حویلیاں اور بٹگرام میںگائنی فرسٹ ایڈ کیلئے تربیتی پروگرام منعقد کئے جا چکے ہیں اور دیگر مراکز پر بھی ایسے پروگرامات کے بعد بہتری کے امکانات سامنے آ سکتے ہیں۔

آئندہ پروگرام کے ذکر میں انہوں نے بتایا کہ لیکچر روم میں الیکٹرانکس بورڈز کی تنصیب، جدید آڈیٹوریم کی تعمیر کالج کے اگلے اہداف ہیں جبکہ سٹوڈنٹس ٹیچر سنٹر اور نئے کالج ریسٹ ہاؤس کی دو دو منزلہ عمارات کیلئے نیسپاک کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں جس نے ایک سال کے اندر اولذکر عمارت تعمیر کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔