قومی اسمبلی نے رواں مالی سال کے 333 ارب روپے سے زائد کے مجموعی طور پر 127 ضمنی مطالبات زر کی منظوری دیدی

اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ہماری حکومت نے مسلسل چھٹا بجٹ پیش کیا ،ْ ملک اور قوم کی خدمت کی ہمیں توفیق دی ،ْ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل

جمعہ مئی 15:58

قومی اسمبلی نے رواں مالی سال کے 333 ارب روپے سے زائد کے مجموعی طور پر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) قومی اسمبلی نے رواں مالی سال کے 333 ارب روپے سے زائد کے مجموعی طور پر 127 ضمنی مطالبات زر کی منظوری دیدی ہے۔ جمعہ کو وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ضمنی مطالبات زر ایوان میں منظوری کے لئے پیش کرنا چاہے تو اپوزیشن کی طرف سے پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے ضمنی بجٹ اور گرانٹ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ پیش کرنے کے لئے تیاری کرنی چاہیے تھی، ایسے امور کو بھی ضمنی بجٹ میں شامل کیا گیا ہے جو بجٹ کا لازمی حصہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضمنی بجٹ کے نام پر اربوں روپے کا بجٹ منظور ہوتا ہے لیکن دولت مشترکہ کھیلوں میں ملک کے لئے اپنے بل بوتے پر سونے کا تمغہ جیتنے والوں کے لئے کچھ نہیں ہوتا، ضمنی بجٹ کو ہم مسترد کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

ایم کیو ایم کے شیخ صلاح الدین نے کہا کہ ہم ضمنی بجٹ کی مخالفت کرتے ہیں، اس کا سارا بوجھ عوام پر پڑے گا۔ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ ضمنی بجٹ اب سالانہ بجٹ کا لازمی حصہ بن چکا ہے، اس رجحان کی حوصلہ شکنی کے لئے قانون سازی ہونی چاہیے۔

تحریک انصاف کے رکن اسد عمر نے کہا کہ قرضوں کی ری پیمنٹ کا ذکر بھی ضمنی بجٹ میں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سالانہ بجٹ کے لئے تیاری ہی نہیں ہوئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں جبکہ بنکوں سے قرضے لینے کی حد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ پچھلے سال کے پہلے ماہ میں ایف بی آر کو وصولیوں کے اہداف میں کمی ہوئی تھی۔

جس کی وجہ سے ڈیٹ سروسنگ کی مد میں کچھ رقم ضمنی بجٹ میں داخل کرنا پڑی۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے رواں مالی سال 2017-18ء کے یکے بعد دیگرے ایک 127 مطالبات زر ایوان میں منظوری کے لئے پیش کئے جن کی ایوان نے منظوری دے دی۔ وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد اپنے مختصر خطاب میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ہماری حکومت نے مسلسل چھٹا بجٹ پیش کیا اور ملک اور قوم کی خدمت کی ہمیں توفیق دی۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ معاشی ترقی کے سفر کے تسلسل کا آئینہ دار ہوتا ہے جو مشکل ضرور ہے مگر سابق وزیراعظم نواز شریف ‘ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے وژن کی وجہ سے معاشی ترقی کا سفر طے کیا ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ آئندہ بھی یہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری میں ارکان پارلیمنٹ ‘ سپیکر ‘ ارکان سینٹ اور متعلقہ اداروں کے افسران اور عملے کا شکرگزار ہوں جنہوں نے بجٹ کے موقع پر بے مثال تعاون کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی ‘ سینٹ‘ پی ٹی وی‘ پی آئی اے‘ سی ڈی اے‘ اے پی پی‘ ریڈیو ‘ پی آئی ڈی سمیت بجٹ سیشن کے دوران پارلیمنٹ ہائوس میں خدمات سرانجام دینے والے تمام ملازمین کو پانچ بنیادی تنخواہوں کے برابر اعزازیہ دیا جائے گا۔ اس موقع پر سپیکر نے کہا کہ پچھلی دفعہ اعلان ہونے والے اعزازیہ کی رقم ہمیں ابھی تک فراہم نہیں کی گئی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اعزازیہ کی رقم وہ اپنی حکومت کی مدت پوری ہونے سے قبل ادا کرکے جائیں گے۔اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی میں انسانی سمگلنگ بل 2018ء پیش کردیا گیا اس سلسلے میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بل ایوان میں پیش کیا۔ اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی میں رواں مالی سال اور آئندہ مالی سال کے اخراجات کے شیڈول پیش کردیئے گئے۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل خان نے 2018-19ء اور 2017-18ء کے ضمنی اخراجات کے شیڈول ایوان میں پیش کئے۔اجلاس کے دور ان سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بجٹ اور فنانس بل کی منظوری کے بعد پورے ایوان کا شکریہ ادا کیا۔ قومی اسمبلی میں فنانس بل کی منظوری کے بعد سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ وہ تمام حکومتی و اپوزیشن جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کے ساتھ ان کا بہت اچھا وقت گزرا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس ابھی جاری رہے گا۔ بعد ازاںقومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی سہ پہر تین بجے تک کے لئے ملتوی کردیا گیا۔