اراکین پارلیمنٹ کی کرنل سہیل عابد کی شہادت کے واقعہ پر اظہار افسوس، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رکھنے کا عزم

جمعہ مئی 15:58

اراکین پارلیمنٹ کی کرنل سہیل عابد کی شہادت کے واقعہ پر اظہار افسوس، ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) اراکین پارلیمنٹ نے کرنل سہیل عابد کی شہادت کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ جمعہ کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ( ن) کے رہنما لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا ہے کہ افغانستان میں جب تک حالات کنٹرول نہیں ہوتے اور بیرونی مداخلت ختم نہیں ہوتی، دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے، یہ نئی لہر نہیں بلکہ یہ دہشت گردوں کی بوکھلاہٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی سرحد پر ابھی باڑ نہیں لگی ہے، افغانستان میں ابھی ان کی حکومت کا پورے علاقوں پر کنٹرول نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2013 میں فوجی اور عسکری قیادت نے جس عزم کا اظہار کیا تھا اس سے کافی حد تک دہشت گردی پر قابو پایا جا چکا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز جو واقعہ پیش آیا اس میں کرنل سہیل شہید نے جان قربان کر کے ملک و قوم کی حفاظت کی اور پوری قوم ان کی شہادت پر سوگوار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے چند دیگر افسران زخمی ہوئے ہیں لیکن تمام دہشت گرد مارے گئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بہت سی چیزیں بھارت سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلا کر رائے بناتا ہے اور پھر میڈیا کے ذریعے ان پر واویلا کرتا ہے اور ہمارے ہاں ایک بحث چھڑ جاتی ہے۔ ایسے بیانات سوچ سمجھ کر دینے کی ضرورت ہے۔سینیٹر بیرسٹر جاوید عباسی نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے لیکن جو حالیہ واقعہ پیش آیا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے تاہم آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر بیرونی مداخلت کے ذریعے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہاکہ حکومت کو فاٹا اصلاحات اور انضمام کے لئے اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں، حکومت فاٹا اصلاحات کے لئے سنجیدہ ہے لیکن جو مسودہ تیار کیا گیا ہے ہم اسے ناکافی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ترقی، انفراسٹرکچر کی ترقی، قانون اور انصاف چاہتے ہیں جو حکومتی بل ہے۔

پی ٹی آئی نے اس پر غور کے بعد اپنی سفارشات مرتب کر دی ہیں اور حکومت اور سب جماعتوں کو اپنی سفارشات پیش کی ہیں۔انہو ں نے کہا کہ توقع ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مل بیٹھ کر اتفاق رائے کر لیں گے تاکہ آگے بڑھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کو اعتراضات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رد الفساد، ضرب عضب کے ذریعے فوج نے قبائلی علاقے کلیئر کرائے ہیں۔

ان علاقوں کو خالی کرایا گیا ہے۔۔ایم کیو ایم کے رہنما سینیٹر میاں عتیق نے کہا کہ احتساب سب کا ہونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ پانامہ میں 476 لوگ تھے لیکن ایک فرد اور ایک خاندان کا احتساب کیا گیا، باقی سب کہاں گئے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب سب کیلئے نہیں ہوگا تو ہمارا آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں کمی آئی ہے لیکن حالیہ دہشت گردی کے واقعہ نے اس بات کی غمازی کر دی ہے کہ دہشت گرد ابھی بھی موجود ہیں ان کے مکمل خاتمے تک ہمیں یہ جنگ جاری رکھنی ہوگی۔