ْشمالی کوریا کو ایٹمی اسلحے سے پاک کرنے کے لیے ’لیبیا ماڈل پر عمل نہیں کیا جائے گا: ٹرمپ

جمعہ مئی 16:06

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ہی قومی سلامتی کے مشیر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے 'لیبیا ماڈل' پر عمل نہیں کیا جائے گا۔یہ تجویز جان بولٹن نے دی تھی جس سے شمالی کوریا نے برہم ہو کر اگلے ماہ صدر ٹرمپ کے ساتھ کم جونگ ان کی ملاقات منسوخ کرنے کی دھمکی دے دی تھی۔

2003 میں لیبیا کے صدر معمر قذافی نے پابندیاں ہٹانے کے بدلے میں ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام ترک کر دیا تھا۔

(جاری ہے)

تاہم اس کے بعد انھیں مغرب کی پشت پناہی میں لڑنے والے باغیوں نے ہلاک کر دیا تھا۔ شاید اسی موازنے کی وجہ سے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان برہم ہوئے ہیں۔یونگ یانگ نے خبردار کیا کہ ہو سکتا ہے وہ 12 جون کو سنگاپور میں ہونے والی ملاقات میں شریک نہ ہوں۔صدر ٹرمپ نے بولٹن کی موجودگی میں کہا: 'ہم شمالی کوریا پر لیبیا ماڈل کا اطلاق کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہے۔'انھوں نے کہا: 'اگر آپ جنوبی کوریا کو دیکھیں تو یہ صعنت کے معاملے میں جنوبی کوریائی ماڈل ہو گا۔'صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس نئے ماڈل میں کم جونگ ان ہی کو شمالی کوریا کا سربراہ دیکھ رہے ہیں۔