قومی اسمبلی نے 333 ارب روپے سے زائد کے 127ضمنی مطالبات زر کی منظوری دیدی

جمعہ مئی 16:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) قومی اسمبلی نے رواں مالی سال کے 333 ارب روپے سے زائد کے مجموعی طور پر 127 ضمنی مطالبات زر کی منظوری دیدی ہے۔ جمعہ کو وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ضمنی مطالبات زر ایوان میں منظوری کے لئے پیش کرنا چاہے تو اپوزیشن کی طرف سے پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے ضمنی بجٹ اور گرانٹ کی مخالفت کی اور کہا کہ بجٹ پیش کرنے کے لئے تیاری کرنی چاہیے تھی، ایسے امور کو بھی ضمنی بجٹ میں شامل کیا گیا ہے جو بجٹ کا لازمی حصہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضمنی بجٹ کے نام پر اربوں روپے کا بجٹ منظور ہوتا ہے لیکن دولت مشترکہ کھیلوں میں ملک کے لئے اپنے بل بوتے پر سونے کا تمغہ جیتنے والوں کے لئے کچھ نہیں ہوتا، ضمنی بجٹ کو ہم مسترد کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

ایم کیو ایم کے شیخ صلاح الدین نے کہا کہ ہم ضمنی بجٹ کی مخالفت کرتے ہیں، اس کا سارا بوجھ عوام پر پڑے گا۔ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ ضمنی بجٹ اب سالانہ بجٹ کا لازمی حصہ بن چکا ہے، اس رجحان کی حوصلہ شکنی کے لئے قانون سازی ہونی چاہیے۔

تحریک انصاف کے رکن اسد عمر نے کہا کہ قرضوں کی ری پیمنٹ کا ذکر بھی ضمنی بجٹ میں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سالانہ بجٹ کے لئے تیاری ہی نہیں ہوئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں جبکہ بنکوں سے قرضے لینے کی حد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ پچھلے سال کے پہلے ماہ میں ایف بی آر کو وصولیوں کے اہداف میں کمی ہوئی تھی۔ جس کی وجہ سے ڈیٹ سروسنگ کی مد میں کچھ رقم ضمنی بجٹ میں داخل کرنا پڑی۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے رواں مالی سال 2017-18 کے یکے بعد دیگرے ایک 127 مطالبات زر ایوان میں منظوری کے لئے پیش کئے جن کی ایوان نے منظوری دے دی۔۔