عدلیہ مخالف نعرے بازی کیس ،

توہین عدالت کی کارروائی22 مئی تک ملتوی

جمعہ مئی 16:13

عدلیہ مخالف نعرے بازی کیس ،
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے قصور شہر میں عدلیہ مخالف نعرے بازی اور ریلی نکالنے والے افراد کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی پر سماعت 22 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے گواہان کی فہرست پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔ درخواست گزاروں کے وکیل میاں ظفر اقبال کلانوری نے بتایا کہ قصور کے کشمیر چوک پر سابق وزیراعظم کی نااہلی کے موقع پر ملزمان نے عدلیہ مخالف ریلی نکالی۔

ملزمان عدلیہ مخالف نعرے بازی کر کے توہین عدالت کے مرتکب ہوئے،ڈسٹرکٹ بار قصور کی جانب سے ایڈووکیٹ احسن بھون نے کہا کہ ریلی میں موجود قایدین اور کارکنان نے عدلیہ کے خلاف تضحیک آمیز نعرے بازی کی ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں،ملزمان نے کہا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے خود کو عدالتی رحم و کرم پر چھوڑتے ہیں ہمیں معاف کر دیا جائے،ملزمان نے بتایا کہ ان کی درخواست ضمانتیں عدالت کی جانب سے وصول ہی نہیں کی جا رہیں، عدالت نے کہا کہ توہین عدالت میں زبانی معافی مانگنے کی بجائے جو کچھ کہنا ہے تحریری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے،،عدالت نے ممبر انسپکشن ٹیم کو طلب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی مقدمے کا توہین عدالت سے متعلق جاری کاروائی سے کوئی تعلق نہیں، دہشت گردی عدالت کے جج کو آگاہ کیا جائے کہ ملزمان کی درخواست ضمانتوں پر قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔

(جاری ہے)

عدالت نے کیس کی مزید سماعت بائیس مئی تک ملتوی کر دی۔