بھارتی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی، بھارتی فورسزکی ایل او سی اور ورکنگ بائونڈری پر بلااشتعال فائرنگ پر احتجاج کیا گیا

جان بوجھ کر سویلین آبادی کو نشانہ بنانا قابل مذمت، انتہائی گھنائونا فعل، انسانی وقار اور بین الاقوانی انسانی حقوق کے خلاف ہے، بھارتی فورسز کی سیز فائر کی خلاف ورزیاں علاقائی امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

جمعہ مئی 16:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) قائمقام سیکرٹری خارجہ نے بھارتی ہائی کمشنر کو جمعہ کو دفتر خارجہ طلب کیا اور بھارتی فورسزکی جانب سے ایل او سی اور ورکنگ بائونڈری پر بلااشتعال فائرنگ پر شدید احتجاج کیا۔ بھارتی فورسز کی خلاف ورزی سے ایک ہی خاندان کے چار ارکان شہید ہو گئے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق 18 مئی کو ایل او سی اور ورکنگ بائونڈری پر پکھلیاں، چپرار، ہرپال، چرواہ اور شکر گڑھ سیکٹرز میں بھارتی قابض فوج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے نتیجہ میںخانور گائوں کے ایک ہی خاندان کے چار افراد شہید اور 10 زخمی ہو گئے۔

شہید ہونے والوں میں کلثوم زوجہ نور حسین، مہوش دختر نور حسین، صفیہ نور حسین اور حمزہ ولد نور حسین شامل ہیں۔ قائمقام سیکرٹری خارجہ نے جمعہ کو بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کرکے بھارتی فورسز کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ پر احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔

(جاری ہے)

دفتر خارجہ کا کہنا ہے جان بوجھ کر سویلین آبادی کو نشانہ بنانا قابل مذمت، انتہائی گھنائونا فعل، انسانی وقار اور بین الاقوانی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔

بھارتی سیز فائر کی خلاف ورزیاں علاقائی امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہیں اور تزویراتی غلط فہمیوں کا باعث بن سکتی ہیں۔ صبر و تحمل کے مطالبہ کے باوجود بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت نے رواں سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران اب تک کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پرجنگ بندی کی 1050 سے زائد خلاف ورزیاں کی ہیں جس کے نتیجہ میں اب تک 28 بیگناہ افراد شہید اور 117 زخمی ہوئے ہیں۔ بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرے اور اپنی فورسز کو سیز فائر معاہدے کی پاسداری کا پابند بنائے۔