حکومت زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی کو روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے،آل پاکستان بزنس فورم

جمعہ مئی 16:40

لاہور۔18 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) آل پاکستان بزنس فورم کے صدر ابراہیم قریشی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی کو روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صرف برآمدات میں ریکوری ہی بیرونی شعبہ پر دبائو میں کمی لا سکتی ہے کیونکہ تجارتی خسارہ جولائی، اپریل کے عرصہ میں 26.44 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ درآمدات اور برآمدات میں بڑھتا ہوا فرق کرنٹ اکائونٹ بیلنس پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ابراہیم قریشی نے کہا کہ گزشتہ سال دسمبر میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 10 فیصد کمی آئی جس سے برآمد کنندگان کو اپنی عالمی مسابقت بہتر بنانے کا موقع ملا۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ رواں مالی سال میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ 17 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا، سب سے بڑے درآمدی آئٹم تیل کی عالمی مارکیٹ میں کم قیمتوں کے باوجود پاکستان کو تجارتی خسارہ کا سامنا ہے، ہمیں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی اور سی پیک سے پیدا ہونے والے مواقعوں سے مکمل استفادہ کرنا چاہئے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جولائی تا اپریل میں برآمدات 19.21 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جو پچھلے سال کے اسی عرصہ میں 16.89 ارب روپے تھیں ۔انہوں نے کہا کہ صرف برآمدات کی بحالی سے ہی تجارتی توازن پر پڑنے والے دبائو میں کمی لائی جا سکتی ہے، برآمدات میں اضافہ بیرونی شعبہ کے لئے نیک شگون ہے۔