عدالت نے رپورٹ پر وزیر صحت اور سیکریٹری صحت سے خالی آسامیاں پر نہ کرنے سے متعلق 23 مئی تک وضاحت طلب کرلی

جمعہ مئی 17:32

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) سندھ ہائیکورٹ میں کراچی ، شکاپور، تھرپارکر ، سکھر اور بدین سمیت11 اضلاع میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی کمی سے متعلق رپورٹ پیش،عدالت نے رپورٹ پر وزیر صحت اور سیکریٹری صحت سے خالی آسامیاں پر نہ کرنے سے متعلق 23 مئی تک وضاحت طلب کرلی۔ جمعہ کو سندھ ہائیکورٹ میں سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹر اور میڈیکل اسٹاف کی کمی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ہوئی ۔

عدالت میں کراچی،شکاپور ،تھرپارکار اور سکھر سمیت 11 اضلاح سے متعلق رپورٹ جمع کرادی ، رپورٹ میں بتایا گیایا کہ شکارپور کی ڈسٹرکٹ اسپتال میں 79 ڈاکٹرز کی اسامی خالی ہے عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شکارپور کے اسپتال کی خالی آسامیاں فوری پر کرنے کاحکم دیدیا ،عدالت نے مزید ریمارکس دہیے کہ کیسے اسپتال چل رہا ہے کوئی سرجن ڈاکٹر نہیں ہی نہیں ہے ۔

(جاری ہے)

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کے شکاپور میں کوئی بے ہوش کرنے والا ڈاکٹر ہی نہیں ہے مطلب سرے سے کوئی آپریشن ہی نہیں ہوا ۔۔ دوران سماعت درخواستگزار وکیل شہاب اوستو نے موقف اپنایا کہ تین سال سے سرکاری اسپتالوں میں گائنا کالوجسٹ ، پیتھالوجسٹ،سرجن، چائلڈ اسپیشلسٹ سمیت اہم آسامیاں خالی ہیں ۔ عدالت نے سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ جب تک نئی تقرری نہیں ہوتی ٹرانسفر کرکے شکارپور اسپتال میں ڈاکٹرز بھیجے بعد ازاں عدالت نے وزیر صحت اور سیکریٹری صحت سے 23 مئی تک خالی آسامیاں کو پر نہ کرنے سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے درخواست پر مزید کاروائی ملتوی کردی۔