بر سیم مو سم سر ما کے چار ہ جا ت میں بڑ ی ا ہمیت کا حا مل چار ہ ہے،زرعی ماہرین

جمعہ مئی 17:37

سلانوالی۔18 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) بر سیم مو سم سر ما کے چار ہ جا ت میں بڑ ی ا ہمیت کا حا مل چار ہ ہے یہ پنجا ب اور دوسر ے صو بو ں میں آ پیاشی علاقوں میں وسیع رقبہ پر کا شت کیا جا تا ہے یہ متعدد کٹا ئیاں د ینے وا لا چار ہ اسے ا گر ستمبر کے آخری ہفتہ سے اکتوبر کے اوائل تک کا شت کیا جا ئے تو ا س سے بخو بی 5کٹا ئیاں حاصل ہو تی ہے ا س کے علا و ہ آخری کٹا ئی ا پر یل کے آخری ہفتے تک لی جا ئے تو ا س سے بیج کی بھی خاطر خوا ہ پیداوار حاصل ہوتی ہے صو بہ پنجا ب میں کا شت کار مقامی دیسی اس لیے ان کی پیداوار ی صلا حیت بہت کم ہو تی ہے چو نکہ بر سیم کی ا ن اقسا م میں بر سیم کے جڑ کے ا کھیڑے کے خلاف قو ت مدافعت کم ہوتی ہے اس لیے بر سیم کے سبز چارے کی پیداوار کے کمی کے عو امل میں جڑ کے ا کھیڑ ے کی بیمار ی او لین حیثیت ر کھتی ہے بر سیم کی دیسی اور مقا می اقسا م جو سا ل با سال اس بیمار ی سے متاثر ہوتی ہے ان کی کا شت سے گر یز کیا جا ئے ادا ر ہ چا ر ہ جا ت سر گو دہا کی صرف تر قی دا د ہ اقسا م کی کا شت کو تر جیح د ی جا ئے کیو نکہ ا ن اقسام میں جڑ کے اکھڑے کی بیمار ی کے خلاف قوت مدافعت ہو تی ہے اس سے نہ صرف چا ر ے کا نقصا ن کم ہوتا ہے بلکہ سبز چا ر ے کی پیدوا ار بھی ہو تی ہے متاثر ہ علاقے بر سیم کو با ربار کا شت نہ کیا جا ئے اس سے بیماری کا حملہ بڑھ جاتا ہے فصل کی تیار ی کے وقت کھیتوں کی ا چھی طرح صفا ئی کی جا ئے پہلی فصل کے خس و خا شاک کو ا کھٹا کر کے جلا د یا جا ئے بر سیم کو جوار کے کھیت میں لگانے سے بیمار ی کا حملہ کم ہو تا ہے فصل کی قوت بر د اشت بڑھا نے کیلئے را ئی ز د بیم بیکٹریاں کے ٹیکہ کا زہراستعمال کیا جا ئے تا کہ مضبو ًط فصل بیما ری کا مقا بلہ کر سکے بر سیم کی شرح صرف 8کلو گرا م استعما ل میں لا ئی جا ئے تا کہ فصل ضرورت سے ز یا د ہ گھنی نہ ہو نے پا ئے کیو نکہ گھنی اور گنجا ن فصل پر ا س بیمار ی کا حملہ ز یا د ہ ہو تا ہے صاف صحت مند اور تصد یق شد ہ جڑ ی بو ٹیوں سے پا ک بیج کا شت کیا جا ئے برسیم کو کاشت کے بعد مناسب وقفوں سے مناسب مقدا ر میں پا نی لگا یا جا ئے تاکہ ضرورت سے ز یا د ہ ز مینی رطو بت کو بڑھا د یتی ہے جس سے ز مین میں مو جو د ہ قوت نمو د بڑ ھ جا تی ہے ا س طرح کا حملہ ز یا د ہ سے پھیلتا ہے بر سیم فصل کو ہر کٹا ئی پر کھا د دینے کی ضرورت نہیں ہو تی ۔

متعلقہ عنوان :