ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے، بدعنوان عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس اور ’’احتساب سب کیلئے‘‘ کی پالیسی پر سختی سے عمل جاری ہے

چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کا ماڈل ہائوسنگ انکلیو کے سینکڑوں متاثرین کو چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب

جمعہ مئی 17:37

ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے، بدعنوان عناصر کے خلاف ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے، بدعنوان عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس اور ’’احتساب سب کیلئے‘‘ کی پالیسی پر سختی سے عمل جاری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب لاہور میں ماڈل ہائوسنگ انکلیو کے سینکڑوں متاثرین کو چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر ڈی جی نیب لاہور بھی موجود تھے۔ چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ہم نے ڈبل شاہ کو سنگل شاہ بنا دیا، 9 ارب روپے کے فراڈ میں سے 4 ارب روپے متاثرین کو واپس کئے جبکہ ڈبل شاہ کیس کے دوسرے ملزم تصور گیلانی کے ذمہ 1.9 ارب روپے میں سے 1.2 ارب روپے کی رقم متاثرین کو واپس لوٹا دی ہے، ایلیٹ ٹائون ہائوسنگ سکیم لاہور کے متاثرین کو 10 کروڑ بمعہ منافع کے 36 کروڑ روپے واپس لوٹا دیئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ نیب لاہور ہائوسنگ سیکٹر کے تقریباً 3 لاکھ متاثرین میں 18 ارب روپے سے زائد واپس لوٹا چکا ہے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔ انہوں نے نیب لاہور کی تقریب میں ماڈل ہائوسنگ انکلیو کے 190 متاثرین میں 24 کروڑ 67 لاکھ 82 ہزار روپے تقسیم کئے گئے ہیں جس کا ثبوت متاثرین کے چہروں پر خوشی اور متانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کسی سے انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا، نیب تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مبینہ طور پر الزامات کی بنیاد پر قانون کے مطابق شروع کرتا ہے جو کہ حتمی نہیں ہوتیں۔

نیب قانون کے مطابق تمام متعلقہ اداروں اور افراد سے ان کا مؤقف معلوم کرتا ہے اور اگر مبینہ طور پر الزامات ثابت نہیں ہوتے تو شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انویسٹی گیشنز مروجہ قوانین کے تحت بند کر دی جاتی ہیں اور جس طرح کسی شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائری اور انوسٹی گیشن شروع کرنے کا فیصلہ نیب کی پریس ریلیز کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

اسی طرح شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائری اور انوسٹی گیشن بند کرنے کا فیصلہ بھی نیب پریس ریلیز کے ذریعے نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب قوم کا ادارہ ہے جو شفافیت، میرٹ، شواہد اور قانون کے مطابق کارروائی پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے پرکشش اشتہارات کا ریگولیٹرز کو قبل از وقت نوٹس لینا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ متعلقہ سوسائٹی جو ان کے دائرہ اختیار میں آتی ہے، نے ان سے این او سی یا پھر لے آئوٹ پلان منظور کرایا ہے، سوسائٹی کے پاس عملی طور پر زمین ہے یا صرف خواب۔

انہوں نے کہا کہ رزق حلال میں ہمیشہ برکت ہوتی ہے، چند دنوں میں عوام کی عمر بھر کی جمع پونجی لوٹنے والوں اور کروڑ پتی بننے والوں کو سوچنا چاہئے کہ کفن کی کوئی جیب نہیں ہوتی اور جو لوگ بھی اس دنیا سے رخصت ہوئے وہ خالی ہاتھ رخصت ہوئے۔ چیئرمین نیب نے ڈی جی نیب لاہور کی زیر نگرانی نیب لاہور کی کارکردگی کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ نیب لاہور کے افسران/اہلکار مستقبل میں بھی اسی محنت، لگن اور دلجمعی سے اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے۔