نیب نے حمزہ شہباز شریف کو 24 مئی کوپھر طلب کرلیا

نیب نے حمزہ شہباز سے 13 سوالوں کے جوابات مانگ لیے ہیں،حمزہ شہباز صاف پانی کمپنی کیس میں آج بھی پیش ہوئے تھے۔میڈیا رپورٹس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ مئی 17:55

نیب نے حمزہ شہباز شریف کو 24 مئی کوپھر طلب کرلیا
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔18مئی 2018ء) : نیب لاہور نے وزیراعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے اور رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف کو پھر طلب کرلیا ہے، نیب نے حمزہ شہباز شریف کو24مئی کو طلبی کا نوٹس جاری کردیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب لاہور نے صاف پانی کمپنی میں کرپشن کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ، داماد علی عمران کے بعد حمزہ شہباز شریف کو بھی طلب کرلیا ہے۔

حمزہ شہبازآج بی نیب حکام کے سامنے پیش ہوئے ۔جس میں حمزہ شہباز نے نیب ٹیم کوصاف پانی کرپشن کیس میں سوالوں کے جوابات دیے۔ نجی ٹی وی کا کہنا ہے کہ نیب حمزہ شہبازکو ایک بار پھر 24مئی کو طلب کرلیا ہے۔نیب نے حمزہ شہباز سے 13مختلف سوالوں کے جواب مانگ لیے ہیں۔حمزہ شہباز شریف آج بھی صاف پانی کمپنی کرپشن کیس میں نیب میں پیش ہوئے تھے۔

(جاری ہے)

اس سے قبل نیب میں پیشی کے بعد ن لیگ کے مرکزی رہنماء حمزہ شہبازشریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب مل کر پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنائیں۔

پاکستان نے آگے جانا ہے ہم سب کی کامیابی ہوگی بروقت الیکشن ہوں۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ اورنج ٹرین کا افتتاح ہوگیا۔ میٹروبس بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ میٹرو بس کو جنگلا بس کہنے والے پشاور میں اب تک میٹرو نہیں بنا سکے۔ عوام کا پیسا ضائع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان قرض معاف کرانے والوں کوساتھ کھڑا کرکے کس احتساب کی بات کرتے ہیں؟ اسی طرح پاکستانی عوام زرداری صاحب کےسوئس اکاؤنٹس کو نہیں بھولے۔

احتساب کا سب ہونا چاہیے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیے۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ میرے والد کہتے ہیں کفن میں جیبیں نہیں ہوتیں۔ دنیا میں خالی ہاتھ آئے ہیں خالی ہاتھ جانا ہے۔ اصل چیز ایمانداری ہے کرسی اوراقتدارمیں کچھ نہیں۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ بےنظیربھٹو کے دور میں18 سال کی عمر میں 6 ماہ جیل میں رہا۔ انہوں نے کہا کہ مشرف دور میں نیب نے کہا کہ ہم دس سال کھنگالتے رہے لیکن کوئی کیس نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ جب دامن صاف ہے تو حمزہ شہباز اور عام آدمی میں کوئی فرق نہیں۔ حمزہ نے کہا کہ رزق اللہ کی ذات دیتی ہے ہم نیب میں پیش ہوئے ہیں۔ ہم پہلے بھی سرخرو ہوئے، اب بھی ہوں گے۔