سندھ ہائی کورٹ ، ملیر میں 242 ایکڑ سرکاری کی غیرقانونی الاٹمنٹ میں ملوث سابق مختار کار سمیت 5 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد

جمعہ مئی 18:33

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) سندھ ہائی کورٹ نے ملیر میں 242 ایکڑ سرکاری کی غیرقانونی الاٹمنٹ میں ملوث سابق مختار کار سمیت 5 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔۔سندھ ہائی کورٹ میں ملیر میں 242 ایکڑ سرکاری اراضی کی غیرقانونی الاٹمنٹ میں ملوث سابق مختار کارمحمد ابراہیم سمیت 5 ملزمان کی جانب سے دائر درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔

عدالت میں نیب پراسیکیوٹر نے ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ سابق مختیار کار محمد ابراہیم، غلام حیدر سمیت دیگر تمام ملزمان کے خلاف کرپشن کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، لہذا انکی ضمانت مسترد کردی جائے۔۔عدالت میں ملزمان کے وکلا کا کہنا تھا کہ نیب نے ریفرنس میں اہم شواہد کو نظر انداز کیا۔تاہم عدالت نے ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ریفرنس میں نامزد سابق مختیار کار محمد ابراہیم، غلام حیدر جمال اختر سمیت 5 ملزمان کی ضمانتوں کو مسترد کردیا۔

(جاری ہے)

عدالت کی جانب سے فیصلہ سناتے وقت ملزمان کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے جس پر نیب حکام نے ملزمان کی ہائیکورٹ کے اندر تلاش شروع کردی۔ملزمان پر ملیر کے علاقے میں 242 سرکاری اراضی غیرقانونی طور پر پرائیویٹ لوگوں کو الاٹ کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔