عوام آئندہ انتخابات کو حق اور باطل کا معرکہ سمجھتے ہوئے اپنا وزن حق کے پلڑے میں ڈالیں ‘سراج الحق

حکمران اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کیلئے آئین پاکستان سے انحراف اور بغاوت پر اتر آئے ہیں‘استنبول میں ہونے والا او آئی سی کا اجلاس نتیجہ خیز ہونا چاہیے محض اسرائیل کی مذمت اور قرا ردادوں سے کچھ نہیں ہوگا‘‘امیر جماعت اسلامی

جمعہ مئی 18:50

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستا ن سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ عوام آئندہ انتخابات کو حق اور باطل کا معرکہ سمجھتے ہوئے اپنا وزن حق کے پلڑے میں ڈالیں ، رونے دھونے اور سینہ کوبی سے قومیں سربلندی حاصل نہیں کرتیں بلکہ باطل کے ساتھ ٹکرانے اور حق کے راستے میں ڈٹ جانے والے ہی عزت و وقار اور عروج حاصل کرتے ہیں ، اگر 2018 ء کے انتخابات میں قوم نے ساتھ دیا تو حکمرانوں کو شکست دے کر تمام حسابات بے باق کریں گے ، حکمران اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے آئین پاکستان سے انحراف اور بغاوت پر اتر آئے ہیں، ایک طرف اسرائیل فلسطین میں اور بھارت کشمیرمیں مسلمانوں کا قتل عام کر رہاہے ، پاکستان میں مغرب کے حیاباختہ ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے میرا جسم میری مرضی جیسے بے ہودہ نعرے لگ رہے ہیں جبکہ حکومت پاکستان اپنے حال میں مست ہے اور اسمبلی میں اٹھارہ سال کے لڑکے لڑکی کو جنس تبدیل کرنے کی آزادی دینے کا قانو ن پاس کر رہی ہے ، یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہار انہوںنے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے اللہ کی نصرت اور فتح کا پیغام لے کر آتاہے ۔ معرکہ بدر سے لے کر فتح مکہ ، بیت المقدس کی آزادی ، فتح اندلس اور قیام پاکستان جیسے امت کی سربلندی اور وقار کے سینکڑوں ایسے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے جو رمضان المبارک میں پیش آئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی خصوصی رحمت سے مسلمانوں کو فتح یاب کیا ۔

انہوں نے کہاکہ عالم اسلام کو اتحاد و یکجہتی کی آج سخت ضرورت ہے ۔ اسلام دشمن قوتیں امت کے درمیان انتشار و فساد کو ہوا دے رہی ہیں ۔ امریکہ اپنا اسلحہ بیچنے کے لیے مسلم ممالک کو جنگ و جدل میں دھکیل رہاہے اور ہم کفر کی سازشوں کا توڑ کرنے کی بجائے ان کا شکار ہورہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ایک طرف غزہ اور فلسطین میں آگ لگی ہوئی ہے اور دوسری طرف اسلامی ممالک کے حکمران باہم دست و گریبان ہیں ۔

انہوںنے کہاکہ مسلمان ممالک کی آپس میں کشیدگی ختم ہونی چاہیے اور او آئی سی اجلاس میں امت کے اتحاد اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے بارے میں مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ چند روز میں ساٹھ سے زائد فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہو گئے ہیں مگر مسلم حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور انہوںنے مجرمانہ چپ سادھ رکھی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔

انہوںنے کہاکہ ملی غیرت و حمیت سے عاری مسلم حکمرانوں نے امت کو مایوس کیاہے ۔ ترکی کے صدر طیب اردگان حق کے علمبردار ہیں اور پوری جرأت سے کفر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہے ہیں مگر جب تک عالم اسلام کے دیگر حکمران ان کا ساتھ نہیں دیتے ، اکیلا طیب اردگان کیا کر سکتاہے ۔ سراج الحق نے کہاکہ استنبول میں ہونے والا او آئی سی کا اجلاس نتیجہ خیز ہونا چاہیے محض اسرائیل کی مذمت اور قرا ردادوں سے کچھ نہیں ہوگا جب تک فلسطین اور کشمیر کی آزادی کا ایک روڈ میپ نہیں دیا جاتا اور اسرائیل اور بھارت کو واضح پیغام نہیں ملتا۔