میو ہسپتال میں پاکستان کا سب سے بڑا 6 منزلہ سرجیکل ٹاور ، وزیراعلیٰ شہبازشریف نے افتتاح کیا

سرجیکل ٹرانسپلانٹ سرجری کے ذریعے حادثات میں اعضا کھونے والے مریضوں کی معذوری کا ازالہ ممکن ہوگا آپریشن تھیٹر کو سوفیصد فری بنانے کا جدید ترین نظام، معدے کے کینسر اور ڈیجیٹل چیسٹ ایکسرے کی سہولت ڈیجیٹل انجیوگرافی، سی ٹی سکین، ایم آر آئی، میمو گرافی، لیپروسکوپک سسٹم، الٹراسائونڈ، ری کنسٹریکٹو اور وسکیولر سرجری

جمعہ مئی 19:20

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے پاکستان کے سب سے بڑے سرجیکل ٹاور کا میو ہسپتال میں افتتاح کر دیا۔ وزیراعلیٰ نے سرجیکل ٹاور کے افتتاح کو یادگار قرار دیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ میو ہسپتال کا 6منزلہ سرجیکل ٹاور جدید ترین طبی آلات سے مزین ہے جہاں سرجیکل ٹرانسپلانٹ کے ذریعے اعضا کھونے والے مریضوں کی معذوری کا ازالہ ممکن ہوگا۔

ہسپتال کے آپریشن تھیٹر کو سو فیصد انفیکشن فری بنانے کا جدید ترین نظام اپنا یا گیاہے۔ معدے کے کینسر اور سینے کے ڈیجیٹل ایکسرے کے ذریعے ٹی بی کی تشخیص اور جلد علاج ممکن ہوگا۔ لاہور کا پہلا جدید ترین سرجیکل ٹاو حکومت پنجاب نے اپنے وسائل سے مکمل کیاہے، اسے ہیلتھ کیئر ڈلیوری سسٹم میں مائل سٹون کا درجہ دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

(جاری ہے)

میوہسپتال کے سرجیکل ٹاور میں ڈیجیٹل انجیوگرافی ، سی ٹی سکین ، ایم آر آئی ، میموگرافی،لیپروسکوپک سسٹم، الٹراسائونڈ ٹشو ڈس سیکٹر، ری کنسٹریکٹو سرجری اور وسکیولر سرجری بھی متعارف کرائی جا رہی ہے اور پاکستان میں یہ سہولت پہلی مرتبہ تاریخی میوہسپتال میں ہی میسر ہوگی۔

میوہسپتال کے سرجیکل آئی سی یو میں ہر قسم کی سرجیکل ایمرجنسی سے نمٹنے کا اہتمام کیا جائے گااورہسپتال میں آنے والے ہر مریض کو سرجری کی کسی بھی ضرورت کے لئے ہسپتال سے باہر نہیں جاناپڑے گا۔ سرجیکل ٹاور میں100 بیڈز کا برن یونٹ بھی قائم کیا گیا ہے جہاں ہائیپروتھراپی ، شاور روم ،آ ئی سی یو، ٹریٹمنٹ روم اور سٹل لائزیشن کا جدید ترین نظام موجود ہے اور میجر برن کا شکار مریضوں کو علاج اور تشخیص کے لئے ریڈیالوجیکل، ڈائیگنوسٹک سہولت بھی میسر ہوگی جہاں صوبہ بھر سے آنے والے جلے اورجھلسے مریضوں کا جدید ترین علاج ممکن ہوگا۔

جلنے اور جھلسنے والے مریض کی زندگی ہر لمحے خطرے میں ہوتی ہے، اس کے لئے یہاں ’’ائیر فلیوڈ ڈائزڈ بیڈز لیزر ڈاپلر، ہائیڈروتھراپی باتھ ٹب‘‘ سمیت جدید سہولتوں کی فراہمی کا اہتمام کیا گیا ہے جن کاماضی میں پاکستان میں تصور بھی محال تھا۔ ہسپتال میں سہولتوں ا ور سسٹم کی نگرانی کے لئے خصوصی سی سی ٹی وی کیمرے او رپیپر لیس آپریشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی سسٹم استعمال کیا جائے گا۔

میو ہسپتال کے اس تاریخی وارڈ میں ریڈیوڈائیگنوسٹک ،جنرل سرجری ، برن سرجری اور دیگر جدید طبی سہولتوں سے متعلق سٹاف کی ٹریننگ کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔آئی سی یو میں مریضوں کے لئے مخصوص وینٹی لیٹر نصب کئے گئے ہیں۔ سرجیکل ٹاور میں 385 بیڈز کی گنجائش ہے اوریہ پبلک سیکٹر میں سب سے بڑا سرجیکل یونٹ ہے۔ 385 بیڈز اور 18 آپریشن تھیٹرز پر مشتمل سٹیٹ آف دی آرٹ سرجیکل ٹاور2 ارب 66 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔

صحت عامہ کے اس منصوبے کی تکمیل میں 26 کروڑ روپے کی بچت کی گئی ہے۔سرجیکل ٹاور میں مریضوں کیلئے مشاورت، تشخیص، علاج اور اعلیٰ معیار کی ادویات بالکل مفت فراہم کی جائیں گی۔عالمی معیار کے جدید ترین سرجیکل ٹاور میں مریضوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں میسر ہوں گی۔ سرجیکل ٹاور میں 100 بیڈز پر مشتمل ملک کا سب سے بڑا جدید ترین برن یونٹ قائم کیا گیا ہے۔

مریضوں کی رجسٹریشن، تشخیص، بیڈ مینجمنٹ، ٹرانسفر اینڈ ڈسچارج سسٹم کو جدید ترین آئی ٹی سسٹم سے آراستہ کیا گیا ہے۔سرجیکل ٹاور کو تھیٹر آٹومیشن سسٹم، فارمیسی مینجمنٹ سسٹم، پیکچر آرکائیو اور کمیونیکیشن سسٹم سے منسلک کیا گیا ہے۔سرجیکل ٹاور میں ڈاکٹرز اور سٹاف کی حاضری کیلئے جدید بائیومیٹرک سسٹم نصب کیا گیا ہے۔صفائی کی نگرانی، انفیکشن کنٹرول کا خودکار نظام اور سی سی ٹی وی سکیورٹی مانیٹرنگ کا جدید سسٹم نصب کیا گیا ہے۔