بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن نے مالی سال 2019-19کے بجٹ کو مسترد کردیا

بجٹ عوامی امنگوں کے مطابق نہیں اور اس میں عوامی خزانے کے ساتھ سنگین مذاق ہوا ہے،عبدالرحیم زیارتوال اسمبلی اجلاس میں ایوان نے گزشتہ اجلاس میں معطل ہونے والے چار ارکان اسمبلی کی معطلی کو ختم کرنے کوبروز اتوار کو اجلاس میں معذرت کرنے کے ساتھ مشروط کردیا

جمعہ مئی 19:20

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے صوبائی بجٹ برائے مالی سال 2018-19کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ عوامی امنگوں کے مطابق نہیں اور اس میں عوامی خزانے کے ساتھ سنگین مذاق ہوا ہے لہذا حکومت بجٹ کو نظرثانی کرکے اس میں موجود غلطیوں کو ٹھیک کرے اسمبلی اجلاس میں ایوان نے گزشتہ اجلاس میں معطل ہونے والے چار ارکان اسمبلی کی معطلی کو ختم کرنے کوبروز اتوار کو اجلاس میں معذرت کرنے کے ساتھ مشروط کردیا۔

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید خان درانی کی صدارت میں پونے دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلا س میں بلو چستان اسمبلی نے 17مئی کے اسمبلی اجلاس میں پیش آنے والے واقعہ کے بعد پشتونخواملی عوامی پارٹی کے 4ارکان کی رکنیت معطل کرنے کے حوالے سے فیصلے پر تحریک منظور کرلی جسکے تحت اگر ارکان 20مئی کے اجلاس میں واقع پر معافی مانگیں گے تو انہیں بجٹ اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے گی ۔

(جاری ہے)

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں جمعہ کو اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارت وال نے 17مئی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز اسمبلی میں جوناخوشگوار واقعہ رونما ہوا وہ ہماری روایت کے برعکس تھا اپوزیشن کے ارکان احتجاج کر رہے تھے تاہم اس احتجاج میں جو غیر مہذب الفاظ استعمال کئے گئے ان سے چیئرپرسن اور ارکان اسمبلی کی دل آزاری ہوئی اس پرمیں معذرت چاہتا ہوں جو ہوا وہ اچھا نہیں ہوا تاہم یہ ہائوس مذکورہ چار ارکان کی رکنیت بحال کرنے پر غور کرے تاکہ وہ اس اہم بجٹ اجلاس میں شریک ہوسکیں وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے معذرت کر لی جو خوش آئند ہے تاہم جن ارکان نے گزشتہ روز نازیبا الفاظ استعمال کئے آج وہ اس ایوان میں نہیں انکی کمی ہمیں بھی محسوس ہورہی ہے مگرکل جو طریقہ کار ان ارکان نے اختیار کیا تھا انکے ریمارکس ،رویے سارجنٹ ایکٹ آرمز کے ساتھ سلوک اختیار کیا ارکان کو گالیاں دیں اور چیئرپرسن پر کاغذ اور پیڈ پھینکے انہوں نے احتجاج میں تمام حدو ں کو عبور کیا ہم نے یہاں چار سال پہلے بھی اپوزیشن دیکھی پہلے سال تو اس اپوزیشن کو سابق حکومت نے صفر فیصد فنڈز دیئے مگر انہوں نے اگر احتجاج بھی کیا تو فلور پربات کی مگر جو کچھ کل یہاں ہوا وہ بالکل نہ مناسب تھا اس پر ہم نے دوستوں سے بات کی مشاورت بھی ہوئی دوستو ں نے کہا کہ انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں گزشتہ روز سرفراز بگٹی نے اپنی غلطی پر ایوان میں معذرت کرلی اگر وہ ارکان جن کی رکنیت معطل کی گئی وہ بھی معذرت کرلیں تو کسی بھی انسان کا معذرت سے قد چھوٹا نہیں ہوجاتااگر مذکورہ چارارکان اجلاس میں آکر معافی مانگتے ہیں تو انہیں بجٹ پر بحث کے آخری دن بیس مئی کو شرکت کی اجازت دی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ایوان کی اپنی روایات ہیں جہاں سے لوگوں کی تربیت ہوتی رہی ہے ہمارے طلبا یہاں آکر سیکھتے رہے ہیں اگر وہ گزشتہ روز کے اجلاس میں ہوتے تو وہ کیا سمجھتے کہ انہوں نے کن کو منتخب کرکے یہاں بھیجا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر معطل ارکان لکھ کر دیں کہ وہ آئندہ اجلاس میں معذرت کریں گے تو انہیں شرکت کی اجازت دی جائے۔ سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے کہا کہ اگر یہاں ماحول خراب ہوسکتا ہے تو اسکو ہم ہی ٹھیک کرسکتے ہیں کل جو یہاں پر باتیں کی گئیں ریمارکس ادا کئے گئے اس پر ہماری پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارت وال معافی مانگ چکے ہیں انکی معذرت پر اکتفا کرلیا جائے ۔

صوبائی وزیرداخلہ میرسرفراز بگٹی نے کہا کہ کل جن ارکان نے جو رویہ اختیار کیا وہ افسوسناک ہے معافی مانگنے سے کوئی چھوٹا نہیں ہوتا کل مجھ سے ایک غلطی ہوئی میں نے اس پر فلور پر معافی مانگ لی اس سے پہلے بھی جب کبھی کوئی غلطی ہوئی اس پر معافی مانگتا رہتا ہوں۔ نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی سردار اسلم بزنجو نے کہا کہ گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی میں جو واقعہ رونما ہوا وہ ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہے خاص طور پر ایک خاتون کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ نہایت افسوسناک ہے اس پر ہمارا اجلاس بھی ہوا جس میں یہ بات محسوس کی گئی کہ احتجاج کے لئے جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ باعث شرمندگی ہے اس مسئلے پر نیشنل پارٹی ایوان کے ساتھ ہے اکثریت جو فیصلہ کریگی ہم ساتھ دیں گے۔

جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے خود گذشتہ روز کے اجلاس کے واقعہ کی مذمت کی ہے میں تمام ارکان اسمبلی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے گزشتہ روز صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ورنہ یہاں پر کچھ بھی ہوسکتا تھا اپوزیشن مان رہی ہے کہ انکے ارکان سے غلطی ہوئی ہے مگر مذکورہ ارکان معافی نہ مانگ کر وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ غلط نہیںاگر وہ معافی مانگیں تو یہ اناپرستی کا خاتمہ ہوگا مگر وہ معافی نہ مانگ کرانا پرستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں صوبائی وزیر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ بلوچستان اور خاص طور پر اس ایوان میں تمام مسائل خوش اسلوبی سے اورافہام و تفہیم سے حل ہوتے رہے ہیں فلور پر بات رکھی جاتی ہے اور پارلیمانی روایت کے تحت اس پر بات ہوتی ہے ہم نہیں چاہتے کہ ایوان کے مسئلے ایوان سے باہر حل ہوں اگر ارکان اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں تو 20مئی کے اجلاس میں انہیں شرکت کی اجازت دی جائے نیشنل پارٹی کی یاسمین لہڑی نے کہا کہ گزشتہ روزا یوان میں جو کچھ ہوا اس پر میں ابھی تک شاک میں ہوں ایک خاتون کے ساتھ جو ہوا وہ سمجھ سے بالاتر ہے ہم تو بلوچستان کی روایات کی باتیں کرتے تھے مگر گزشتہ روز یہاں بلوچستان اسمبلی کی روایت کو ختم کردیا گیا ڈیکورم کا بھی خیال نہ رکھا گیا اگر یہ صورتحال رہی تو پھر شاید خواتین ارکان مستعفی ہونے پر غور کریں۔

اسپیکر نے کہا کہ میں سوا دو سال سے اسپیکر ہوں یہاں جاتی ہوں وہاں کہتی ہوں کہ بلو چستان اسمبلی کی اپنی روایات ہیں مگر جو کچھ گزشتہ روز ہوا وہ انتہائی برا ہوا میری اسپیکر بننے کے بعد سے کوشش رہی کہ اس عہدے کے تقدس کو برقرار رکھ سکوں مگر کل جو ہوا وہ سمجھ سے بالاتر ہے اگر ہم خود ایوان اور چیئرکا احترام نہ کریں گے تو کون کریگا کسی کو کسی کی تضحیک کی اجازت نہیں دی جاسکتی جو زبان استعمال اور سارجنٹ ایکٹ آرمزکے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا وہ افسوسناک ہے ہر انسان سے غلطی ہوتی ہے مگراسکے بعد معافی کی گنجائش ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اجلاس کی صدارت کرنے والی شاہدہ روف نے تو اسکی وقت معاف کردیا تھا مگر ارکان اپنے موقف کا اظہار کیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ کا بھی موقف آچکا ہے اس موقع پر صوبائی وزیرداخلہ میرسرفرازبگٹی نے تحریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر معطل ارکان فلور پر آکر معافی مانگتے ہیں تو انہیں 20مئی کے اجلاس سے رکنیت بحال کردی جائے اسپیکر کی جانب سے رائے شماری پر ارکان نے تحریک کی منظوری دیدی۔

اجلاس میں بجٹ بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارت وال نے کہا کہ پاکستان کو خاص صورتحال کا سامنا ہے ہم اس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے ون مین ،ون ووٹ کیلئے جدوجہد کی ہے ماضی میں جن لوگوں کے پاس اقتدار رہا انہوں نے ہمارے موقف کی غلط ترجمانی کی میں آج بھی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کی مخالفت کرتا ہوں اسکی مخالفت کرنے کا مقصد قطعا یہ نہیں ہے کہ ہم ریاست اور مملکت کی مخالفت کر رہے ہیں پہلے بھی ہمیں ایسی مخالفت کرنے پر جیلوں میں ڈالا گیا حکومت وقت کی پالیسی پر تنقید اوراحتجاج ہمارا حق ہے اسکے یہ معنی نہیں لینے چاہئے کہ ہم ریاست کے مخالف ہیں آج جرنیل خود مانگ رہے ہیںآج جرنیل خود کہہ رہے ہیں کہ جرنیل ضیاء الحق کے دور کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہم آج بھگت رہے ہیں انہی پالیسیوں کی وجہ سے محمود خان اچکزئی کو چھ سال روپوش ہونا پڑا میں بجٹ میں خواہ مخواہ کی قانونی رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتا ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کسی بھی آمر کی حمایت نہیں کی ہم فوج پر بات نہیں کر رہے فوج کے اقتدار پر قبضے کو ٹھیک نہیں سمجھتے ایجنسیوں کا کام ہے کہ سیاسی حکومت کو معلومات فراہم کرے اور ملک کے فیصلے سیاسی حکومت کرے ہم فوج اورایجنسیوں کے کام سے انکاری نہیں ہیں لیکن ڈی چوک کے دھرنے میں جمہوریت کے خلاف سازش کی گئی یہ بات آج سب کو معلوم ہوچکی ہے کہ وہ دھرنے کس نے کروائے اور وہ سازشیں آج تک جاری ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں اسوقت اداروں کے درمیان سخت تناو پایا جاتا ہے پارلیمنٹ کی قدر کو کم کیاجارہا ہے ہم اسے کم نہیں ہونے دیں گے پارلیمنٹ کی حیثیت برقرار رہنی چاہئے الیکشن اور سیاست میں مداخلت اچھی بات نہیں آج ملک کو اداروں کے درمیان ٹکرا. کا سامنا ہے تمام سیاسی جماعتوں کو ملکر اس ٹکراو کو ختم کرنے کیلئے سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اوراسکی خارجہ پالیسی میں ہماری رائے شامل نہیں ہوتی ہمسایوں کے معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہم کسی دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت نہ کریںاور کیا ہم چین کی امداد کے بدلے اپنی سرزمین کا اختیار کھو بیٹھیں گے ان تمام چیزوں سے نمٹنے کیلئے ہمیں ٹیکنیکل لوگ چاہئے تاکہ صوبے اور ملک کے وسائل کو تحفظ دے سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی طور پر تنہائی کا سامنا ہے سیاسی جماعتوں کو تمام اختلافات پس پشت ڈال کر مجموعی مسائل کے حل کیلئے اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔عبدالرحیم زیارت وال نے کہا کہ جب ہم وفاق سے اپنے حقوق مانگتے ہیں تو ہمیں غدار کہا جاتا ہے میر عبدالقدوس بزنجو کی حکومت کو اگر غدار نہیں تو حقوق کا پاسدار کہا جائے گا یہاں صرف الفاظ کا ہیرپھیر ہوتاہے معنی ایک جیسے ہیں عبدالرحیم زیارت وال نے کہا کہ حکومت نے 61ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے بلو چستان کے جن علاقوں سے گیس نکل رہی ہے وہیں گیس موجودنہیں گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کی مدمیں ہمارا موزانہ دیگر صوبوں کے ساتھ کیا جاتا ہے یہ ہمیں قابل قبول نہیں بلوچستان کی گیس ،یوریا کارخانوں کو دی جارہی ہے لیکن صوبے میں گھریلو صارفین کے پاس گیس نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ گیس کمپنیاں جو اعدادو شمار دیتی ہیں ہمیں انہی پر اکتفا کرنا پڑتا ہے نہیں معلوم کہ اصل اعدادو شمارکیا ہیں اور نہ ہی ایک پرائیویٹ کمپنی کے حکام ایوان کو آکر اس حوالے سے بتاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مرکز کے ذمے بلوچستان کے ایک کھرب 40ارب بقایاجا ت ہیں جو ملنے شروع ہوئے ہیں لیکن ہماری معلومات کے مطابق یہ اعدادو شمار ساڑھے چھ کھرب سے زیادہ ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہرنائی سے سالانہ 10لاکھ ٹن کوئلہ نکلتا ہے سرکار ہمیں پانچ سو روپے فی ٹن آمدن دیتی ہے مگر یہ آمدن بھی نہیں مل رہی 15ارب کی آمدن سے صوبے کو کیسے چلایا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں ہمارا حصہ 9فیصد تو کردیا گیا مگر جو پرانا پانچ فیصد حصہ تھا ہمیں وہ بھی نہیں مل رہا ہے مرکز سے ہمیں 62سے 63ارب روپے ملنے تھے لیکن صرف 20فیصد بھی نہیں ملے ہم نے گزشتہ چار سالوں میں ترقیاتی مدات کیلئے بھاری رقم رکھی تھی لیکن موجودہ حکومت نے آمدنی بڑھانے والے 12محکموں کو یکسر نظر انداز کردیا ماہی گیری کیلئے صرف 60ملین رکھے گئے ہیں زراعت میں زیتون کیلئے 1250ملین باقی ریسرچ کیلئے 500ملین اسکے علاوہ آن گوئنگ اسکیموں کیلئے رقم رکھی گئی ہے مگر کوئی بھی میگا منصوبہ شامل نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ آبپاشی کے شعبے میں کوئی ڈیم شامل نہیں کیا گیا 40لاکھ اور ایک کروڑ سے بننے والے ڈیم کو ڈیم نہیں سمجھتا بجٹ میں صرف ایک ڈیم جو 36ارب روپے کی لاگت سے بن رہا ہے کیلئے 2ارب روپے رکھے گئے ہیں اس میں بھی واضح نہیں کیا گیا کہ وفاق اور صوبے کا حصہ کتنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آواران کیلئے 31ڈیلے ایکشن ڈیم کی مد میں 850ملین رکھے گئے ہیں کھیلوں میں 14اگست کی 2تقریبات کیلئے 300اور250ملین رکھے گئے ہیں جوکہ سمجھ سے بالاتر ہے ہم ان چیزوں کو پی ایس ڈی پی کی بجائے دیگر اخراجات میں شامل کرتے تھے۔

عبدالرحیم زیارت وال نے کہا کہ نان ڈویلپمنٹ اسکیمات کو ڈویلپمنٹ میں ڈال کر تھرو فاروڈ بھی رکھ دیا گیا ہے یہ قانون کی سراسر خلاف ورزی ہے ۔انہوں نے کہا کہ لائیو سٹاک کے شعبے میں بلوچستان میں وسیع مواقع موجود ہیں ہمارے پاس مون سون علاقوں میں 50لاکھ جانور ہیں مگر ان علاقوں کو نظرانداز کرکے خالق آباد کیلئے 22ملین جبکہ پولٹری اورڈیری فارم کیلئے 76ملین رکھ دیئے گئے ہیں یہ سنگین اورناقابل برداشت غلطیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود کا سماجی برائیوں کو کم کرنے میں کردار ہے لیکن اس کیلئے کچھ نہیں رکھا گیا صرف کوئٹہ میں 10کروڑ روپے سے سپورٹس کمپلیکس بنایا جارہا ہے جوکہ پورے صوبے کیلئے ناکافی ہے ۔انہوں نے کہا کہ زراعت ،صنعت ،ماہی گیری سمیت دیگر محکموں کو نظرانداز کیا گیا ہے اور آمدن کو بڑھانے کو ترجیح نہیں دی گئی جس سے غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگاانہوں نے کہا کہ محکمہ مائنز اینڈ منرلز کیلئے 10کروڑ کا ریسکیوسینٹر بنایا جارہا ہے آواران میں 16کروڑ کی لاگت سے ووکیشنل سینٹر ،کلچر ل کے نا م پر گوادر میں دو ارب رکھے گئے ہیں جبکہ زیارت میں صرف ایک پارک 10کروڑ کی لاگت سے بنایاجارہا ہے روڈ سیکٹر میں 300سے زائد منصوبے ہیں لیکن ان میں صرف 11قابل ذکر ہیں کہ جنہیں کہا جاسکتا ہے کہ یہ واقعی منصوبے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں آواران کیلئے 9ارب 38کروڑ ،کچھی کیلئے 2ارب 35کروڑ ،خضدار کیلئے 3ارب ،قلات کیلئے ایک ارب سے زائد ،خاران کیلئے 1ارب سے زائد،واشک کیلئے 1ارب ،قلعہ سیف اللہ کیلئے 2ارب سے زائد رقم رکھی گئی ہے جوکہ حکومت کی جانب سے غیر منصفانہ تقسیم ہے یہ ہم سب کا مشترکہ صوبہ ہے حکومت انصاف کے تقاضوں سے کام لے یہ صورتحال کسی صورت قابل قبول نہیں ہم بھی اپنے ساتھیوں کو 10سے 15کروڑ زائد دیدیتے تھے مگر اربوں روپے میں نہیں دیتے تھے ۔

انہوں نے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ عوامی امنگوں کے مطابق نہیں اس میں عوامی خزانے کے ساتھ سنگین مذاق ہوا ہے میں اپوزیشن کی طرف سے بجٹ کو مستردکرتا ہوں اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرے۔ بعد میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی محترمہ راحیلہ حمید درانی نے اسمبلی اجلاس ہفتہ کی سہ پہر تین بجے تک کیلئے ملتوی کردیا۔