احتساب کے نام پر نواز شریف سے انتقام لیا جا رہا ہے، بیگم خالدہ منصور

تمام ادارے شریف فیملی کے خلاف شواہد اکٹھے کرنے میں مگن ہیں لیکن انہیں کامیابی نصیب نہیں ہورہی منتخب وزیراعظم کو سازشیں کر کے وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا جو عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے جس کا بدلہ عوام آئندہ انتخابات میں ضرور لیں گے،مخالفین جتنی چاہیں سازشیں کرلیں، اور نادیدہ قوتوں کے مہرے بن جائیں کامیاب نہیں ہوں گے،انہیںملکی ترقی ہضم نہیں ہو رہی،لیگی رہنماء

جمعہ مئی 19:55

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ ( ن) خواتین ونگ مرکزی رہنما وا یم این اے بیگم خالدہ منصور نے کہا ہے کہ احتساب کے نام پر نواز شریف سے انتقام لیا جا رہا ہے۔ تمام ادارے شریف فیملی کے خلاف شواہد اکٹھے کرنے میں مگن ہیں لیکن انہیں کامیابی نصیب نہیں ہورہی۔ ایک منتخب وزیراعظم کو سازشیں کر کے وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا جو عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے جس کا بدلہ عوام آئندہ انتخابات میں ضرور لیں گے۔

انہوںنے کہا کہ میاں نواز شریف ملکی تعمیرو ترقی کی علامت جبکہ مسلم لیگ ن پاکستان کا نظریہ ہے، مخالفین جتنی چاہیں سازشیں کرلیں، اور نادیدہ قوتوں کے مہرے بن جائیں کامیاب نہیں ہوں گے،انہیںملکی ترقی ہضم نہیں ہو رہی،ملک میں جاری ترقیاتی کاموں کی وجہ سے ن لیگ کی قیادت کی مقبولیت میں اضافے سے یہ خوفزدہ ہیںاور انہیں2018ء میں اپنی شکست نظر آ رہی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے عوام کو ٹرانسپورٹ کی آرام دہ ، معیاری اور باکفایت سفری سہولتوں کی فراہمی کیلئے انقلابی اقدامات کئے ہیں - اورنج لائن میٹروٹرین اور میٹرو بس سروس جیسے عظیم اور شاندار فلاحی منصوبے غیورقوم اور عام آدمی کیلئے مکمل کئے ہیں - عمران نیازی ورلڈ کپ اور شوکت خانم کا نعرہ لگا کر ووٹ مانگتے ہیں تو انہیں چاہیے تھا کہ وہ کے پی کے میں تعلیمی ادارے ، ہسپتال اور یونیورسٹیاں بناتے لیکن انہوںنے تو کے پی کے کا بیڑا غرق کر دیا-عوام کے ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی پروگراموں میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی- پاکستان مسلم لیگ (ن ) کی دشمنی میں اورنج لائن میٹروٹرین کے منصوبے کی مخالفت کر کے عوام سے کھلی دشمنی کی- اب عوام نے ترقیاتی منصوبوں اور اورنج لائن ٹرین کے عوامی منصوبے میں تاخیر کا بدلہ ان سے لینا ہے اور 2018ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے جہاز کو ڈبونا ہے - سندھ کو برباد کرنے والے زرداری بھی مداری بن کر آرہے ہیں - بلاول ہاؤس اور بنی گالہ ہم پیالہ اور ہم نوالہ ہیں - یہ دونوں مل گئے ہیں ، ایک پاس بلا اور ایک پاس تیر ہے - جب شیر نے جھپٹا مارنا ہے تو یہ نظر نہیں آئیں گے -