ملک کو اج متعدد چیلنجزکا سامنا ہے، آئندہ جو بھی اقتدار سنبھالے گا اس کیلئے بحران میں گھِرا پاکستان ہوگا‘عمران خان

ملک میں انصاف نہیں، کرپٹ، قبضہ گروپ سے اسمبلی بھری ہے، انصاف کے لیے عوام ٹھوکر کھاتی ہے، بچے تعلیم سے محروم ہیں، مجھے سیاست میں آنے کی ضرورت نہیں تھی، ایک مقصد لیکر سیاست میں آیا،موجودہ حکمرانوں کے اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد کے اثاثے دیکھ لیے جائیں، پتا چل جائے گا یہ سیاست میں کیوں آئے‘چیئرمین تحریک انصاف کا تقریب سے خطاب

جمعہ مئی 20:47

ملک کو اج متعدد چیلنجزکا سامنا ہے، آئندہ جو بھی اقتدار سنبھالے گا ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کو آج متعدد چیلنجزکا سامنا ہے، آئندہ جو بھی اقتدار سنبھالے گا اس کیلئے بحران میں گھِرا پاکستان ہوگا، مجھے سیاست میں آنے کی ضرورت نہیں تھی، میں ایک مقصد لے کر سیاست میں آیا،موجودہ حکمرانوں کے اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد کے اثاثے دیکھ لیے جائیں، پتا چل جائے گا کہ یہ سیاست میں کیوں آئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینئر صحافی ضیاء شاہد کی کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ضیاء شاہد ، شفقت محمود ، عبدالعلیم خان،، شیخ رشید،امتتان شاہد،عارف نظامی ، شعیب صدیقی، مسرت جمشید چیمہ ،فرخ حبیب سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا لیکن یہ ملک اپنے مقصد سے پیچھے ہٹ چکا ہے۔

(جاری ہے)

جاگیرداروں، امیروں کی نہیں قائداعظم غریبوں کی بات کرتے تھے، ریاست سے غربت کا خاتمہ ہم سب کی ترجیح ہونی چاہیے، ملک میں انصاف نہیں، کرپٹ، قبضہ گروپ سے اسمبلی بھری ہے، انصاف کے لیے عوام ٹھوکر کھاتے رہتے ہیں، بچے تعلیم سے محروم ہیں، کرپٹ، سفارشیوں کو بٹھائیں گے تو اداروں تباہ ہونے تھے۔ ایوب خان کو امریکی صدر ایئرپورٹ پر لینے آیا، آج ایئرپورٹ پر پاکستان کے وزیرِاعظم کے کپڑے اتار لیتے ہیں۔

ہم تب کامیاب ہوں گے جب ہم اپنے اس ویژن پر نہ جائیں جس کی بنیاد پر پاکستان بنا تھا۔ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے سے ہمارے پاسپورٹ کی عزت ہو گی۔انہوں نے کہا کہ پورے ہندوستان میں قائداعظم سب سے بڑے لیڈر تھے۔ قائدِاعظم جیسے وکیل تھے ویسا پورے ہندوستان میں کوئی نہیں تھا، انھیں سیاست کی ضرورت نہیں تھی۔ قائداعظم آزادی کے لیے نکلے تھے، ان کی بڑی جدوجہد تھی۔

1937 تک مسلم لیگ چھوٹی سی پارٹی تھی، قائدِاعظم نے مسلم لیگ کو مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت بنا دیا۔ قائدِاعظم نے سب سے پہلے جانا کہ کانگریس ہندوں کے لیے کام کر رہی ہے۔ آج نریندر مودری کے ہندوستان مین مسلمان محفوظ نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اثاثے بنانے کی غرض سے سیاست میں آتے ہیں، مگر میرے پاس ایک مقصد تھا۔ آج پاکستان کو بہت بڑے مسائل کا سامنا ہے۔

اب جو بھی حکومت آئے گی اسے بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ زرداری دور میں سے 13ہزار ارب تک قرضہ پہنچا، (ن) لیگ دور میں پاکستان کا قرضہ 13سی27ہزارارب تک پہنچا دیا، یہ وہ پاکستان چھوڑکر جارہے ہیں، جو مسائل میں گھرا ہوا ہے۔۔عمران خان نے کہا کہ موقع لوگ نہیں دیا کرتے، یہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرکٹ ورلڈ کپ کینسر اسپتال بنانے کے لیے کھیلا، شوکت خانم دنیا کا واحد ہسپتال ہے، جہاں 75 فیصد غریبوں کا مفت علاج ہوتا ہے، اوپر بیٹھے لوگ پیسہ بنا کر باہرلے جائیں گے تو ملک ٹھیک نہیں ہوسکتا۔