سپریم کورٹ نی54 ارب روپے کے قرضے معافی سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں 222 متعلقہ افراد اور کمپنیوں کے صدور کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا

جمعہ مئی 20:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) سپریم کورٹ نی54 ارب روپے کے قرضے معافی سی متعلق ازخود نوٹس کیس میں 222 متعلقہ افراد اورکمپنیوںکے صدور کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اورجسٹس مشیرعالم پرمشتمل دورکنی بنچ نے 13 مئی کوکیس کی سماعت کرتے ہوئے متعلقہ افراد کی طلبی کا حکم جاری کیا تھا۔

مختلف کمپنیوں ،بینکوں اور افراد نے اربوں روپے سے زائد کے قرضے معاف کرانے کے ساتھ ان پرسود کی مد میں بھی 23 ارب روپے سے زائد ادا کرنے ہیں۔ قبل ازیں سپریم کورٹ میں جسٹس ریٹائر جمشید علی پر مشتمل کمیشن کی جانب سے عدالت میں ایک رپورٹ پیش کی گئی تھی جس میں 222 کمپنیو ں اور افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ انہوں نے بینکو ں سے قواعد کے مطابق قرضے معا ف نہیںکرائے، لہذا ان کے خلاف کاروائی کی جائے، جس پر عدالت نے 13مئی کو ان کمپنیو ں کے خلاف نو ٹس جا ری کر نے کا حکم دیا۔

(جاری ہے)

جسٹس جمشید کی رپورٹ میں قرض معافی سے متعلق تفصیلی رپورٹ اور اسٹیٹ بینک کا ڈیٹا بھی پیش کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں عدالت کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ مجموعی طور پر620 مقدمات میں 84 ارب رو پے کے قرضے معاف کروائے گئے۔ان کمپنیوں نے 18 ارب 71 کروڑ 70 لاکھ کا قرض لیا اور 8 ارب 94 کروڑ رو پے واپس کیے جبکہ 11 ارب 76 کروڑ سے زائد رقم واجب الادا ہے۔کمپنیوں نے بینک انٹرسٹ کی مد میں بھی 23 ارب 57 کروڑ سے زائد رقم ادا کرنی ہے۔