سانگھڑ میں رمضان المبارک کے دوسرے روزے کو بھی شہری چھوٹے اور بڑے کاگوشت کھانے سے محروم رہے

تمام قصاب اپنی دکانیں اس وقت تک بند رکھیں جب تک انتظامیہ ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کرتی، قصابوں کا ہنگامی اجلاس شہر کے قصابوں کو ایک ذبح خانہ دیا جائے، ریٹ بھی مارکیٹ کمیٹی ہی تعین کرے ورنہ ہم بھی گوشت سے بائیکاٹ جاری رکھیں گے، شہری

جمعہ مئی 21:04

سانگھڑ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) سانگھڑ میں رمضان المبارک کے دوسرے روزے کو بھی شہری چھوٹے اور بڑے کاگوشت کھانے سے محروم رہے۔ انتظامیہ اور قصاب میں مذاکرات ناکام ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق سانگھڑشہر میں چھوٹے اوربڑے گوشت کے قصابوں نے احتجاجاً دکانیں بندکردی ہیں جس کی وجہ سے شہری دوروز سے گوشت کھانے سے محروم ہوگئے۔ دوروز قبل ایک میٹنگ میں ضلعی انتظامیہ اور قصابوں کے درمیان فیصلہ ہوا تھا کہ بڑے کا گوشت 310روپے اور چھوٹے کا گوشت 570 روپے میں فروخت کیا جائے گا مگر قصابوں نے اس پر عمل نہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس نرخ پر گوشت فروخت نہیں کر سکتے جس پر سانگھڑ کے قصابوں نے سرکاری ریٹ تسلیم کر نے سے انکار کردیا اور احتجاجاً اپنی دوکانیں بندکردی ہیں۔

اس سلسلے میں ڈھک پاڑھ سے تعلق رکھنے والے امجد قصاب کے باڑے پر قصابوں کا ایک اہم ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں شہر کے تمام قصابوں میں متفقہ فیصلہ ہوا کہ تمام قصاب اپنی دکانیں اس وقت تک بند رکھیں جب تک انتظامیہ ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کرتی۔

(جاری ہے)

دوسری جانب شہریوں نے کہا کہ قصابوں نے اپنی من مانیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور انہوں نے پورے سندھ سے زائد ریٹ مقرر کئے ہوئے ہیں اور ہمیں بیمار اور مرے ہوئے جانوروں کا گوشت کھلاتے ہیں جس کے باعث مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

ہم انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ شہر کے قصابوں کو ایک ذبح خانہ دیا جائے اور ایک انتظامیہ کا فرد مقرر کیا جائے تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ یہ جانور بالکل صحیح ہے اور ریٹ بھی مارکیٹ کمیٹی ہی تعین کرے ورنہ ہم بھی گوشت سے بائیکاٹ جاری رکھیں گے اور دال سبزی پر گزارہ کر لیں گے۔