فاٹا اصلاحات کیلئی(کل) حکومت کے ساتھ مشاورت کریں گے،شاہ محمود قریشی

نوازشریف کا بیان اور بیانیہ دونوں ہی ملک کیلئے خطرناک ہیں،بھارت نواز شریف کے بیان کو ایف اے ٹی ایف اجلاس میں بھی اٹھائے گا،پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال کر بلیک لسٹ میں شامل کرانے کی کوشش کرے گا، تمام جماعتیں فاٹا کے عوام کی خاطر تمام اختلافات بھلا کر ملکر بیٹھنے کو تیار ہیں تاکہ فائدہ مند مشاورت کی جا سکے،فاٹا اصلاحات پر تجاویزمرتب کی ہیں جوحکومت سمیت تمام سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی لیڈرز کو بھجوا دی گئی ہیں ، نگران وزیر اعظم کے حوالے سے خورشید شاہ نے ہمارے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی پارلیمانی لیڈر پی ٹی آئی کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو

جمعہ مئی 21:15

فاٹا اصلاحات کیلئی(کل) حکومت کے ساتھ مشاورت کریں گے،شاہ محمود قریشی
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہافاٹا اصلاحات کے معاملے پر کل حکومت کے ساتھ مشاورت کیلئے بیٹھیں گے، نوازشریف کا بیان اور بیانیہ دونوں ہی ملک کیلئے خطرناک ہیں،،بھارت نواز شریف کے بیان کو ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں بھی اٹھائے گااور پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال کر بلیک لسٹ میں شامل کرائنے کی کوشش کرے گا، تمام جماعتیں فاٹا کے عوام کی خاطر تمام اختلافات بھلا کر ملکر بیٹھنے کو تیار ہیں تاکہ فائدہ مند مشاورت کی جا سکے،،فاٹا اصلاحات پر تجاویزمرتب کی ہیں جوحکومت سمیت تمام سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی لیڈرز کو بھجوا دی گئی ہیں ، نگران وزیر اعظم کے حوالے سے خورشید شاہ نے ہمارے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی۔

(جاری ہے)

وہ جمعہ کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فاٹا اصلاحات پر جلد پارلیمنٹ میں ایک ترمیم پیش کرنے جارہی ہے جس کیلئے کابینہ نے منظوری کے بعد ڈرافت تیار کر لیا ہے۔ سرتاج عزیرفاٹا اصلاحات کمیٹی کے سربراہ تھے اور ان کے بل میں ترامیم کو میں نے دیکھا ہے ۔ ہماری رائے میں یہ بل ناکافی اور فاٹا کی عوام کے ساتھ دھوکا ہوگا۔

اس بل میں حکومت فاٹا کا خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام نہیں کرے گی۔ پاکستان تحریک انصاف کا شروع دن سے مطالبہ ہے کہ فاٹا کو فوری انظمام کیا جائے اور فاٹا کے عوام کو ان کے جائز حقوق دئیے جائیں۔ عمران خان کی سربراہی میں حکومت کے بل پہر پارٹی کا پارلیمانی اجلاس بھی بلایا گیا تھا جس میں ہم نے اس بل پر تفصیلی گفتگو کی اور اس بل کوناکافی قرار دیتے ہوئے پارلیمانی اجلاس میں حکومتی بل کو مسترد کیا گیا ہے۔

ہم نے اس معاملے پر اپنی جانب سے تجاویزمرتب کی ہیں جو تماحکومت سمیت تمامسیاسی جماعتوں اور پارلیمانی لیڈرز کو بھجوا دی گئی ہیں ۔تجاویز بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ پارٹی مفادات کو چھوڑ کر حکومت اور اپوزیشن جماعتیں ملکر بیٹھیں ۔ ہم اس معاملے پر آج(پیرکو) حکومت کے ساتھ مشاورت کیلئے بیٹھیں گے اور دیکھیں گے کی فاٹا کے معاملے پر کیا پیشرفت ہو سکتی ہے۔

حکومت پہلے ہی اس معاملے پر ڈیڑھ سال ذائع کر چکی ہے جس کی ذمی دار حکومت کی حلیف جماعتیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی کے باعث حکومت بھی فاٹا اصلاحات کے اہم معاملے پر پیشرفت دکھانے میں ناکام رہی۔ پاکس فوج نے فاٹامیں آپریشنز کر کے وہاں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو ختم کر دیا ہے اور وہاں سے سرداری نظا م ختم کرنے کے باعث ایک خلا پیدا ہوگیا ہے جس کا پاکستانمخالف قوتیں فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں ۔

اس لیے فاٹا کے مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ فاٹا کا انضمام کر کے وہاں انتخابات کرائے جائیں اور بلدیاتی حکومت وہاں پر عمل میں لائی جائے جو عوام کے مسائل کو حل کر سکے۔ ہم نے وزیر اعظم سے بھی کہا کہ تمام جماعتیں فاٹا کے عوام کی خاطر تمام اختلافات بھلا کر ملکر بیٹھنے کو تیار ہیں تکہ فائدہ مند مشاورت کی جا سکے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت ہماری بات سنے گی اور ہماری تجاویز کو ڈرافٹ میں شامل کر کے اسی اسمبلی میں ہی فاٹا اصلاحات کا بل پاس کر لے گی۔

حکومت کے اتحادیوں کے فاٹا کے حوالے سے عزائم خطرناک ہیں اور حکومت نے اپنے حلیفوں کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں۔ نواز شریف کا بیان خطرناک ہے اور بھارت نے ان کے بیان پر بہت شور مچایا ہوا ہے، نواز شریف کو ہم غدار نہیں کہتے لیکن انہوں نے غصہ یا نادانی میں ایسی بات کہ دی ہے جس کو بھارت اب استعمال کرے گا۔ ہمیں خدشہ ہے کہ بھارت نواز شریف کے بیان کو ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں بھی اٹھائے گااور پوری کوشش کرے گا کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال کر بلیک لسٹ میں شامل کرائے اور پاکستان پر پابندیاں عائد کرائے۔

نواز شریف اس ملک کی3وزیر اعظم رہ چکے ہیں، مہلے انہوں نے ختم نبوت کے معاملے کو چھیڑا اور اب یہ بھارت والا معاملہ سامنے لے آئے ہیں۔۔نوازشریف کا بیان اور بیانیہ دونوں ہی ملک کیلئے خطرناک ہیں۔ نگران وزیر اعظم کے حوالے سے خورشید شاہ نے ہمارے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی۔ ہم ایم این سے کسی سیٹ یا کسی وزارت لینے کیلئے عمران خان کی پارٹی میں نہیں آئے بلکہ ہم عمران خان کی قیادت، دیانت اور وژن دیکھ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں۔