تحریک حریت کی طرف سے کشمیری شہری کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی شدید مذمت

قابض انتظامیہ کشمیری عوام خاص طورپر نو جوانوں کو بدترین ریاستی سیاسی انتقام کا نشانہ بنارہی ہے

جمعہ مئی 21:56

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیرمیںتحریک حریت جموںو کشمیر نے کشمیری شہری منظور احمد خان کی گزشتہ 2سال سے مسلسل غیر قانونی نظربندی ، محمد رفیق راتھر اور مشتاق احمد ملہ کی گرفتاری کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قابض انتظامیہ کشمیری عوام خاص طورپر نو جوانوں کو بدترین ریاستی سیاسی انتقام کا نشانہ بنارہی ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تحریک حریت کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں افسوس ظاہرکیاکہ آزادی پسندوں کو سالہاسال تک جیلوں میں نظربند رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جبکہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے ہر دور میں اپنے سیاسی مخالفین اور خصوصاً آزادی پسندوں کو بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوںنے منظور احمد خان پہلے بھی 11سال تک غیر قانونی طورپرنظربندرکھاجاچکا ہے اور انہیں 2015میں جیل سے رہا کیاگیا تھا۔

(جاری ہے)

تاہم انہیں 2016میں دوبارہ گرفتار کر کے سرینگر سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ انکی معمراورعلیل والدہ بسترِ مرگ پر زندگی کی آخری سانسیں لے رہی ہیں اور اپنے بیٹے کی راہ تک رہی ہیں مگر سنگدل اور جابرحکمران منظور احمد کی رہائی میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔

ترجمان نے منظور احمد خان کی فوری رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اٴْن کی والدہ بسترِ مرگ پر ہے اورانکااس دنیا میںاورکوئی نہیں ہے جو انکی تیمارداری کر سکے لہذا ان کے واحد سہارے منظور احمد کو فوری طورپر سرینگر سینٹرل جیل سے رہا کیاجانا چاہیے۔انہوںنے بانڈی پورہ کے علاقے اجس کے رہائشیوں محمد رفیق راتھر اور مشتاق احمد ملہ کی گرفتاری کی بھی شدید مذمت کی۔

متعلقہ عنوان :