رمضان المبارک شروع،اشیاء خرد و نوش کی قیمتیں آسمانوں پر

پرائس کنٹرول کمیٹی عملی طور پر رمضان میں بھی سامنے نہ آسکی‘یوٹیلٹی سٹورز پر سبسڈی ریٹ والا ڈرامہ بھی بے نقاب ہو گیا

جمعہ مئی 21:38

کو ٹلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) رمضان المبارک شروع،اشیاء خرد و نوش کی قیمتیں آسمانوں پر،پرائس کنٹرول کمیٹی عملی طور پر رمضان میں بھی سامنے نہ آسکی۔یوٹیلٹی سٹورز پر سبسڈی ریٹ والا ڈرامہ بھی بے نقاب،عام شہری کی ضرورت اشیاء یوٹیلٹی سٹور کو ٹلی میں موجود ہی نہیں ۔کو ٹلی یوٹیلٹی سٹور پر نہ آٹا،نہ چینی نہ چاول ،نہ ہی بیسن وغیرہ۔

رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں۔ حکومت نے ایک ارب سے زائد سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہوا ہے جو ہوائی نکلا۔یوٹیلٹی سٹور پر غیر ضروری اشیاء کے انبار اور ضروری اشیاء کا نام تک نہیں ۔کو ٹلی میں مختلف جگہوں پر پہلے کی طرح ریٹ لسٹ آویزاں نہیں ،کئی ایک جگہوں پر گاہک اور دوکاندار کے درمیان بحث اور تکرار معمول بن گئی۔

(جاری ہے)

کو ٹلی سستا بازار انتظامیہ بھی حرکت میں لیکن سستا بازار میں پھل فروٹ کوالٹی والا نہیں ہے۔

قصا بوں کی بلیک میلینگ بھی عروج پر سرکاری نرح نامہ مانے سے انکار ۔گوشت مارکیٹ کو ٹلی تین روز سے بند ۔ڈپٹی کمشنر نے بکرے کے گوشت کی قیمت 600جبکہ بڑے گوشت کی قیمت 300مقرر کی جس پر قصابوں نے دوکانوں کو تالے لگا دئیے۔ادھر شہریوں نے بھی گوشت کا بائیکاٹ کر دیا۔ریٹ پرانا ہو یا نیا مارکیٹ بند کیونکر ہو ۔قصابوں کا کہنا ہے کہ مرغی کا گوشت دو ہفتے پہلے ایک سو پچاس تھا اور اب تین سو ہو گیا لیکن کسی کا بس نہ چلا۔

اب کئی ماہ سے بارڈر لائن کی صورت حال خراب ہے ۔جانور ملنا مشکل ہو گیا ہے ۔کم ریٹ پر گوشت کی سیل ممکن نہیں ہے۔عوام الناس کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں ہر شیء ہی مہنگی خریدنے پر مجبور ہیں ۔کھجور کا ریٹ بھی دو سو سے زائد ہے۔باقی دالیں ،فروٹ ،پھل سبزیوں کی بات ہی نہ کریں لیکن کوئی پو چھنے والا ہی نہیں ۔عوام الناس کا یہ بھی کہنا تھا کہ دنیا بھر کے ایسے ممالک جہان مسلمان نام کے ہیں اقلیت میں ہیں وہاں رمضان المبارک کا احترام کیا جاتا ہے۔

مسلمانوں کے لئے بڑے بڑے سٹورز پر الگ ڈیسک قائم کئے جاتے ہیں جہاں سے ان کو ضرورت کی اشیاء سستے داموں ملتی ہیں ۔لیکن ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے ۔باقی مہینوں میں اگر کوئی چیز سستی بھی ہو تی ہے تو رمضان کی آمد کے ساتھ ہی اس کے دام آسمان کو چھونا شروع کر دیتے ہیں ۔اس ساری صورت حال سے عوام پریشان ،حکومت بے بس اور انتظامیہ مصروف ضرور لیکن عوام کے لئے کچھ نہ کرنے کی روش پر ہے۔