قومی اسمبلی میں مالی سال 2018-19کیلئی52کھرب سے زائد مالیت کا فنانس بل ترامیم کے ساتھ منظور

اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجود رواں مالی سال 2017-18 کیلئے 333ارب مالیت کا ضمنی بجٹ بھی منظور ،ضمنی مطالبات زر میں غیر ملکی قرضوں اور سود کی ادائیگی پر 258ارب اور انتخابات کیلئی6ارب روپے کا ضمنی بجٹ بھی منظور ، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے فنانس بل پر ترامیم مسترد کر دی گئیں ،ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں 2 ترامیم کرکے اسے بھی فنانس بل کا حصہ بنا دیا گیا،2نئی ترامیم کے مطابق نان فائلر اب 40کی بجائے 50لاکھ روپے تک کی جائیداد خرید سکیں گے، ایمنسٹی اسکیم سے سیاستدان، فوجی افسران اور سرکاری ملازمین فائدہ نہیں اٹھا سکیں ڈالر اکائونٹ کیلئے ٹیکس فائلر ہونا لازم ہوگا، سمندر پار پاکستانیوں کے ملک میں زرمبادلہ بھیجنے پر کوئی پابندی نہیں،بیرون ملک مقیم افراد پیسہ ڈکلیئر کرکے باہر رکھیں تو 5 فیصد ٹیکس ادا کرکے اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب کہ جو بیرون ممالک میں غیرمنقولہ پراپرٹی ظاہر کرے وہ 3فیصد ٹیکس دیکراسکیم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے،وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل

جمعہ مئی 21:41

قومی اسمبلی میں مالی سال 2018-19کیلئی52کھرب سے زائد مالیت کا فنانس بل ترامیم ..
اسلا م آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں مالی سال 2018-19کیلئی52کھرب سے زائد مالیت کا فنانس بل ترامیم کے ساتھ منظور جبکہ اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجود رواں مالی سال 2017-18 کیلئے 333ارب مالیت کا ضمنی بجٹ بھی منظورکر لیا گیا ،ضمنی مطالبات زر میں غیر ملکی قرضوں اور سود کی ادائیگی پر 258ارب اور انتخابات کیلئی6ارب روپے کا ضمنی بجٹ بھی منظور کرلیا۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے فنانس بل پر ترامیم مسترد کر دی گئیں ،ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں 2 ترامیم کرکے اسے بھی فنانس بل کا حصہ بنا دیا گیا،2نئی ترامیم کے مطابق نان فائلر اب 40کی بجائے 50لاکھ روپے تک کی جائیداد خرید سکیں گے، ایمنسٹی اسکیم سے سیاستدان، فوجی افسران اور سرکاری ملازمین فائدہ نہیں اٹھا سکیں ۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ڈالر اکائونٹ کیلئے ٹیکس فائلر ہونا لازم ہوگا، سمندر پار پاکستانیوں کے ملک میں زرمبادلہ بھیجنے پر کوئی پابندی نہیں،بیرون ملک مقیم افراد پیسہ ڈکلیئر کرکے باہر رکھیں تو 5 فیصد ٹیکس ادا کرکے اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب کہ جو بیرون ممالک میں غیرمنقولہ پراپرٹی ظاہر کرے وہ 3فیصد ٹیکس دیکراسکیم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلا س سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا ، جس میں فنانس بل 2018میں اپوزیشن ارکان اور وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے مختلف ترامیم پیش کیں گئیں ،اپوزیشن ارکان میں سے صرف پیپلز پارٹی کے رکن نوید قمر کی ترمیم کو منظور کیا گیا جبکہ اپوزیشن کی باقی تمام ترامیم مسترد کر دیں گئیں ، جبکہ مفتاح اسماعیل کی پیش کی گئیں ترامیم منظور کر لیںگئیں ۔

بعد ازاں قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے 52کھرب روپے کے فنانس بل 19-2018 کی منظوری دے دی جبکہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں 2نئی ترامیم کرکے اسے بھی منظور کرلیا اور فنانس بل کا حصہ بنا دیا۔ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں 2 نئی ترامیم کے مطابق نان فائلر اب 40کی بجائے 50لاکھ روپے تک کی جائیداد خرید سکیں گے، اس کے علاوہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے سیاستدان، فوجی افسران اور سرکاری ملازمین فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔

فنانس بل 2018میں ترامیم پر بحث کرتے ہوئے شازیہ مری نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ تمباکو کا استعمال پارلیمنٹ میں کم کریں، لیکن ہم یہ نہیں کر پا رہے، لگتا ہے کہ وزیر خزانہ بھی تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ا عجاز جاکھرانی نے کہا کہ ایک کمپنی کو فائدہ دینے کیلئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے، پوری دنیا میں سگریٹ مہنگا ہے، جتنی بیماریاں سگریٹ سے ہوتی ہیں اتنی کسی اور چیز سے نہیں ہوتیں، سگریٹ کی ڈبی پر کینسر والی تصویر بھی میں نے لگوائی تھی۔

شیریں مزاری نے کہا کہ عمر کی حد رکھی جائے،کم عمر والے افراد کو سگریٹ نوشی کی اجازت ہرگز اجازت نہ دی جائے۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جو لوگ ڈالر اکائونٹ رکھتے ہیں ان کے لیے ٹیکس فائلر ہونا لازم ہوگا، نان ٹیکس فائلر ڈالر اکانٹ نہیں رکھ سکیں گے اور اب 50 لاکھ روپے مالیت کی پراپرٹی خرید سکیں گے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے ملک میں زرمبادلہ بھیجنے پر کوئی پابندی نہیں، اگر سمندر پار پاکستانی ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ بھیجیں گے تو ذرائع پوچھے جائیں گے، ایک کروڑ روپے سے زائد کے زرمبادلہ آئے تو ایف بی آر پوچھ گچھ کرے گا اور پیسے بھیجنے والے کو ذرائع آمدن بتانا ہوں گے۔

مفتاح اسماعیل نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم افراد پیسہ وطن لاکر2 فیصد ٹیکس ادا کرکے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، بیرون ملک مقیم افراد پیسہ ڈکلیئر کرکے باہر رکھیں تو 5 فیصد ٹیکس ادا کرکے اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب کہ جو بیرون ممالک میں غیرمنقولہ پراپرٹی ظاہر کرے وہ 3 فیصد ٹیکس دیکراسکیم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

، اس پر پیپلزپارٹی کی رہنما عذرا افضل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نہیں تمام فلاحی اداروں کو ٹیکس چھوٹ دیں۔وزیر خزانہ نے عذرا افضل کے جواب میں کہا کہ ایف بی آر کو اختیار ہے کہ وہ فیصلہ کریکس فلاحی اداریکو ٹیکس چھوٹ ہو۔پی پی رہنما شازیہ مری کا کہنا تھا کہ حکومت نے فنانس بل میں تمباکو پر لیوی لگاکر اب اسے ختم کردیا ہے، تمباکو پر ٹیکس لگا کر اس کا استعمال کم کیا جائے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ مخصوص فلاحی اداروں کو ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے۔اس کے علاوہ قومی اسمبلی نے رواں مالی سال2017-18کے ضمنی بجٹ کی مد میں 266ارب روپے اور 333 ارب روپے سے زائد کے مجموعی طور پر 127 ضمنی مطالبات زر کی منظوری دیدی ہے جس میں غیر ملکی قرضوں اور سود کی ادائیگی پر 258ارب روپے خرچ ہوں گے،اس کے علاوہ ایوان نے الیکشن کمیشن کا آئندہ عام انتخابات کیلئی6ارب روپے کا ضمنی بجٹ بھی منظور کرلیا۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ جو پاکستانی ٹیکس نہیں دے گا، وہ ڈالر اکائونٹ نہیں رکھ سکے گا، اس کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ ڈالر سالانہ سے زائد رقم پاکستان بھیجنے والے سے آمدن کے ذرائع پوچھے جاسکتے ہیں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کو اس بارے میں معلومات حاصل کرنے کا اختیار ہوگا۔ضمنی بجٹ پر بحث کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ مری نے کہا کہ سپلیمنٹری بجٹ کم سے کم ہونا چاہیے، یہ اتنا بڑا انبار عوام پر تھوپ رہے ہیں۔

شازیہ مری نے ضمنی بجٹ اور گرانٹ کی مخالفت کی اور کہا کہ بجٹ پیش کرنے کے لئے تیاری کرنی چاہیے تھی، ایسے امور کو بھی ضمنی بجٹ میں شامل کیا گیا ہے جو بجٹ کا لازمی حصہ ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضمنی بجٹ کے نام پر اربوں روپے کا بجٹ منظور ہوتا ہے لیکن دولت مشترکہ کھیلوں میں ملک کے لئے اپنے بل بوتے پر سونے کا تمغہ جیتنے والوں کیلئے کچھ نہیں ہوتا، ضمنی بجٹ کو ہم مسترد کرتے ہیں ،،تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے کہا کہ ہم سپلیمنٹری بجٹ کو مسترد کر تے ہیں یہ قابل قبول نہیں ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما شیخ صلاح الدین نے کہا کہ ہم اس سپلیمنٹری بجٹ کی مخالفت کرتے ہیں یہ عوام پر مزید بوجھ ڈال رہے ہیں۔۔جماعت اسلامی کے پارلیمانی رہنما صاحبزادہ طارق اللہ نے بھی سپلیمنٹری بجٹ کی مخالفت کی اور کہا کہ ضمنی بجٹ اب سالانہ بجٹ کا لازمی حصہ بن چکا ہے، اس رجحان کی حوصلہ شکنی کیلئے قانون سازی ہونی چاہیے۔ تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا کہ 258ارب بیرونی قرضوں سے تعلق رکھتے ہیں، معیشت میں تیزی سے تنزلی آئی ہے، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے گر رہے ہیں، ہم خطرناک صورتحال کے اندر آ چکے ہیں۔

قرضوں کی ری پیمنٹ کا ذکر بھی ضمنی بجٹ میں ہے، اس کا مطلب ہے کہ سالانہ بجٹ کے لئے تیاری ہی نہیں ہوئی ہے، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ پچھلے سال کے پہلے ماہ میں ایف بی آر کو وصولیوں کے اہداف میں کمی ہوئی تھی۔ جس کی وجہ سے ڈیٹ سروسنگ کی مد میں کچھ رقم ضمنی بجٹ میں داخل کرنا پڑی۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے رواں مالی سال کے یکے بعد دیگرے ایک 127 مطالبات زر ایوان میں منظوری کے لئے پیش کئے جن کی ایوان نے منظوری دے دی۔

واضح رہے کہ 27 اپریل 2018 کو وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے 59 کھرب 32 ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کیا گیا تھا، جس میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.9فیصد یا 18کھرب 90ارب روپے تجویز کیا گیا تھا۔ وفاقی بجٹ کے نمایاں خدوخال کے مطابق بجٹ میں جاری اخراجات میں اضافہ اور ترقیاتی بجٹ میں کمی کی گئی تھی، اس کے علاوہ بینک سے قرضوں کا تخمینہ ایک ہزار 15ارب روپے سے زائد لگایا گیا تھا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.6گنا زیادہ تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ دفاعی بجٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 19.5 فیصد اضافہ کرکے اسے 11 کھرب روپے تک بڑھا دیا گیا تھا۔وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 19-2018کے بجٹ تجاویز میں کم آمدنی والے پنشنرز کی مشکلات کے پیش نظر پنشن کی کم سے کم حد کو 6 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ فیملی پنشن کو بھی 4500روپے سے بڑھا کر 7500روپے کی تجویز دی گئی تھی۔