ڈی ایف آئی ڈی کی بدولت ہی ہم نے شعبہ تعلیم و صحت میں متعین کردہ اہداف کی اہم کامیابیاں حاصل کیں،پرویز خٹک

جمعہ مئی 21:51

ڈی ایف آئی ڈی کی بدولت ہی ہم نے شعبہ تعلیم و صحت میں متعین کردہ اہداف ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے شعبہ تعلیم و صحت میںبرطانوی ادارے ڈیپارٹمنٹ فار انٹر نیشنل ڈویلپمنٹ ( ڈی ایف آئی ڈی) کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ بین الاقوامی معاونتی ادارے کی بدولت ہم تعلیم و صحت شعبوں میں متعین کردہ اہداف حاصل کئے ،امید ہے ڈی ایف آئی ڈی مستقبل میں بھی خیبرپختونخوا کیساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گا۔

وہ گزشتہ روز ڈی ایف آئی ڈی کے وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ جنہوں نے ڈی ایف آئی ڈی ہیڈ مس جونا رائیڈ کی سربراہی میں وزیراعلیٰ سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیراعلی کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری صحت محمد عابد مجید، سٹریٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید احمد سمیت محکمہ خزانہ اور دیگر محکمہ جات کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

ملاقات میں ڈی ایف آئی ڈی کے وفد نے وزیراعلیٰ سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا اور خصوصی طور پر صوبائی حکومت کے پانچ سالہ دور میںمختلف شعبوں میں کی گئی اصلاحات اور مثبت اقدامات پر وزیراعلی اور ان کی ٹیم کی پذیرائی کی۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ صوبائی حکومت کی اصلاحات کی بدولت گورننس سسٹم میں کافی بہتری آئی ہے اور نظام میں واضح تبدیلی آئی ہے۔

وفد نے بتایا کہ حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ صوبے میں پولیس کو غیر سیاسی کرنا ہے اور یہ تبدیلی دیگر صوبوں کیلئے ایک مثال ہے جبکہ خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے صوبائی کمیشن برائے وقار نسواں کا قیام ایک حوصلہ افزاء امر ہے۔ ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ نے ڈی ایف آئی ڈی وفد کا صوبائی حکومت کی کارکردگی کو سراہنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا کہ حکومت سنبھالتے وقت ہمیں کئی مشکلات کا سامنا تھا کیونکہ کوئی شعبہ بھی عوام کو خدمات فراہم کرنے کیلئے سازگار نہیں تھا خصوصی طور پر تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی حالت قابل رحم تھی۔

ہم نے سب سے پہلے ان دو شعبوں پر توجہ دی اور آج ہماری کوششوں کی بدولت ہسپتالوں میں ضروری سازوسامان کی کمی پوری کی گئی ہے صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو تعینات کیا گیا ہے، بڑے ہسپتالوں کو خود مختاری دی گئی ہے اور تعلیمی نظام کو بھی درست سمت پر ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دوشعبوں میں ہم نے تمام سہولیات فراہم کی ہیں اور عمومی طور پر صوبے میں گڈ گورننس پر بھی توجہ دی گئی ، پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزادکرکے بااختیار فورس بنا دیا، ایک سوال کے جواب میں وزیراعلی نے کہا کہ قبائلی علاقے صوبے میں شامل ہوجائیں گے اور صوبائی اسمبلی میں ان کو نمائندگی بھی ملے گی تاہم کچھ سیاسی پارٹیوں کی وجہ سے یہ انضمام تاخیر کا شکار ہوا حالانکہ فاٹا کے مسائل اور محرومیوں کا واحد حل انضمام میں مضمر ہے۔