مصر،فوج ملکی کاروبار پر قابض، نجی شعبہ پریشان

غیر ملکی سرمایہ کار سرمایہ کاری سے گریزاں، ،فوجی کاروبار کو ٹیکس استثنیی حاصل،نجی شعبہ ٹیکس کے بوجھ تلے

جمعہ مئی 22:02

قاہرہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) مصر میں فوج ملکی کاروبار پر قابض ہے، نجی شعبہ پریشانی کا شکارہے، غیر ملکی سرمایہ کار سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں،فوجی کاروبار کو ٹیکس استثنیی حاصل جب کہ نجی شعبہ ٹیکس کے بوجھ تلے سسک رہا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مصر کی مسلح افواج بھی مختلف طرح کے کاروباروں میں ملوث ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مصر کی مسلح افواج کے سابق جنرل اور اب ملک صدر عبدالفتاح سیسی کی صدارت کے دوران فوج کی ملکیت والی کاروباری کمپنیاں طاقت ور ہوتی گئیں۔

ایسی ایک کلیدی کاروباری کمپنی مادی کارپوریشن ہے جو مصر کی وزارت برائے دفاعی پیداوار کی ملکیت ہے۔ یہ کمپنی 1954 میں قائم کی گئی تھی، جو اس وقت گرنیڈ لانچر، پستول اور مشین گن بناتی تھی۔

(جاری ہے)

تاہم حالیہ برسوں میں یہ کمپنی گرین ہاس، طبی آلات، پاور ٹولز اور جم کا سازوسامان تیار کر رہی ہے۔ مصری فوج کے ایک ریٹائرڈ اعلی افسر عبدالمجید کہتے ہیں کہ مادی کارپوریشن کو حال ہی میں 2 کروڑ 80لاکھ ڈالر کے آرڈر ملے ہیں۔

رائٹرز کا کہنا ہے کہ مادی کاپوریشن مصر میں فوجی ملکیت کی درجنوں کمپنیوں میں سے ایک ہے جو سابق فوجی صدر سیسی کے دور میں پھلی پھولیں۔ مصری فوج کے ایک کمپنی میں 51 فیصد شیئر ہیں، جو قاہرہ سے 75 کلومیٹر مشرق میں 45 ارب ڈالر کی لاگت سے ملک کا نیا دارالحکومت تعمیر کر رہی ہے۔ فوجی ملکیت کی ایک اور کمپنی ملک کا سب سے بڑا سیمنٹ کا کارخانہ تعمیر کر رہی ہے، جب کہ فوج کے دیگر کاروباروں میں مچھلی فارمز سے لے کر ہالی ڈے ریزارٹ تک شامل ہیں۔

مصر کے کاروباری حلقے اور غیر ملکی سرمایہ کار فوجی کاروباروں کے حوالے سے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہیں اس سے نقصان پہنچا ہے، کیوں کہ فوجی ملکیت کی کمپنیوں کو ٹیکس میں چھوٹ سمیت کئی مراعات حاصل ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی ایجنسی آئی ایم ایف نے بھی ستمبر 2017 میں خبردار کیا تھا کہ فوج کی ملکیت میں چلنے والے کاروباروں کی وجہ سے نجی شعبے کی ترقی اور روزگار کے مواقع متاثر ہوں گے۔

تاہم مصر کی حکومت کا اصرار ہے کہ مصر کے نجی شعبے کے لیے کاروبار کے مساوی مواقع موجود ہیں اور فوجی کاروبار محض مارکیٹ میں موجود گیپ کو پر کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت نے 2016 میں نوزائیدہ بچوں کے خوراک کے ڈبوں کی قلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فوج نے اس قلت کو دور کرنے کے لیے بچوں کی خوراک کے ڈبے درآمد کیے اور اب وہ ان کی ملک کے اندر تیاری کے لیے پلانٹ لگا رہی ہے۔

اسی سال 2016 میں حکومت نے فوجی کاروباروں کو ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے استثنا دے دیا۔ اگرچہ اس سلسلے میں بننے والے قانون میں کہا گیا ہے کہ یہ استثنا ایسی اشیا، سازوسامان، خدمات اور خام مال میں دیا جائے گا، جن کی فوجی ہتھیاروں، دفاع اور قومی سلامتی کے لیے ضرورت ہے، لیکن اس بات کا اختیار بھی فوج کو دے دیا گیا کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ اس استثنا کے حقدار کون کون سے کاروبار ہیں۔

سویلین بزنس مین شکایت کرتے ہیں کہ اس سے اس رعایت کے ناجائز استعمال کی راہ ہموار ہو گی۔ مثال کے طور پر نجی شعبے کے ایک ہوٹل میں ایک کپ کافی پر 14 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس کاٹا جاتا ہے، لیکن فوجی ملکیت کے ہوٹل اس ٹیکس سے مستثنی ہوں گے۔ تاہم قاہرہ میں موجود فوجی ملکیت کے الماسا ہوٹل نے رائٹرز کو بتایا کہ شادیوں اور کانفرنسوں کے لیے جگہ کرائے پر دینے پر بھی کوئی ویلیو ایڈڈ ٹیکس چارج نہیں کیا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ فوجی کاروباروں کو 3شعبوں میں تقسیم کیا گیا۔ فوجی پیداوار کی وزارت 20 کاروباروں کو کنٹرول کرتی ہے، جب کہ وزارت دفاع درجنوں کاروباروں کی مالک ہے اور سرکاری ملکیت کی عرب تنظیم برائے صنعتکاری کے ماتحت 12 کاروبار ہیں۔ ایک تخمینے کے مطابق ملکی معیشت میں فوجی کاروباروں کا حصہ 20 سے 50 فیصد تک ہے۔