روزہ جسمانی و روحانی امراض سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے،حکیم محمد افضل میو

جمعہ مئی 22:06

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) پاکستان طبی کانفرنس لاہور ڈویژن کے زیر اہتمام ایک مجلس مذاکرہ کا انعقاد ہوا جس میں مقررین نے روزہ اور ہماری صحت کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔اس موقع پر جنرل سیکرٹری پاکستان طبی کانفرنس پنجاب پروفیسر حکیم محمد احمد سلیمی ، حکیم محمد افضل میو،حکیم امجد وحید بھٹی، حکیم سید عمران فیاض، حکیم احمد حسن نوری، حکیم محمد ابو بکر، حکیم حامد محمود، حکیم ڈاکٹر عمر فاروق گوندل، حکیم عبدالرزاق ربانی، حکیم فیصل طاہر صدیقی، حکیم محمد اسحاق ، حکیم محمد احمد ، ڈاکٹر سکندر حیات زاہد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روزہ جسمانی و روحانی امراض سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہی- دور حاضر کی عام اور پریشان کن امراض موٹاپا‘ بلڈپریشر‘ ذیابیطس‘ امراض قلب‘ معدہ‘ جگر‘ آنتوں اور گردوں کے امراض کے اسباب کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات پائیہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ مندرجہ بالا امراض کی بڑی وجہ کھانے پینے میں بے اعتدالی، نظام ہضم کی خرابی اور روزمرہ معمولات میں عدم توازن جیسے عوامل شامل ہیں جس سے معدہ خراب ہو جاتا ہی- حکیم محمد افضل میونے کہا کہ روزہ رکھنے سے معدے کو آرام ملتا ہی- اس عرصہ میں معدہ کی اصلاح ہوتی ہی- روزہ رکھنے سے ’’قوت‘‘ ہضم کے عمل پر صرف ہونے کی بجائے بدن سے فاسد اور ردی مادے خارج کرتی ہے جس سے جسم مضر صحت مواد سے پاک ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

حکیم سید عمران فیاض نے کہا کہ جس طرح کسی گاڑی کے انجن کو ایک خاص مدت اور حد تک چلنے کے بعد ٹیوننگ یا سروس کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح قدرت نے جسم انسانی کی ٹیوننگ کا بھی روزہ کی صورت میں اہتمام کر دیا ہے تاکہ اعضاء انسانی کی سروس ہو سکے اور وہ آئندہ بہتر انداز میں کام کرتے رہیں-حکیم احمد حسن نوری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تو مغرب کے معالجین بھی ’’روزہ‘‘ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں--یورپ میں روزہ کی طرز پرفاقے کو علاج کے لیے ایک مستقل طریق علاج کی حیثیت حاصل ہی- حکیم امجد وحید بھٹی نے بتایا کہ روزہ سے مختلف امراض کا علاج کیا جاتا ہے اور اس سے بہت سے مریض عروس صحت سے ہمکنار ہو جاتے ہیں-حکیم محمدابو بکرنے کہا کہ روزے سال بھر کے لیے جسم انسانی کی صحت کے باغ کو ہرا بھرا رکھتے ہیں- ماہ رمضان درحقیقت صحت انسانی کا سدا بہار گلشن ہی- مگر روزہ سے ہم اسی صورت فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب سنت نبویؐ کے مطابق افطاری و سحری کا اہتمام کیا جائے یعنی موجودہ موسم میں کھجور اور دودھ کے ساتھ افطاری اور سحری کے وقت سادہ اور ہلکی پھلکی غذا کھائی جائی-