فلسطینیوں کے لیے ملکر اقوام متحدہ میں آواز اٹھانا ہوگی ‘ غزہ میں اسرائیلی مظالم کی آزادانہ اورشفاف تحقیقات کرائی جائے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی

اختلافات بھلا کر او آئی سی فورم سے مضبوط موقف دینا ہوگا اور فلسطینیوں کے لیے ملکر اقوام متحدہ میں آواز اٹھانا ہوگی ‘ سلامتی کونسل فلسطین کے متعلق اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروائے۔مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی 70 سال سے بھارتی مظالم کا شکار ہیں۔ استنبول میں او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب

Mian Nadeem میاں محمد ندیم ہفتہ مئی 11:13

فلسطینیوں کے لیے ملکر اقوام متحدہ میں آواز اٹھانا ہوگی ‘ غزہ میں اسرائیلی ..
استنبول(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔19 مئی۔2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے آزاد فلسطینی ریاست کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کے لیے ملکر اقوام متحدہ میں آواز اٹھانا ہوگی ‘ غزہ میں اسرائیلی مظالم کی آزادانہ اورشفاف تحقیقات کرائی جائے۔ استنبول میں فلسطین کی صورتحال پر او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی اور اسرائیلی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی مظالم کی آزادانہ اورشفاف تحقیقات کرائی جائے۔

وزیراعظم نے آزاد فلسطینی ریاست کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اختلافات بھلا کر او آئی سی فورم سے مضبوط موقف دینا ہوگا اور فلسطینیوں کے لیے ملکر اقوام متحدہ میں آواز اٹھانا ہوگی ‘ سلامتی کونسل فلسطین کے متعلق اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمعہ کو یوم یکجہتی فلسطین کے طورپرمنایا گیا جبکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی 70 سال سے بھارتی مظالم کا شکار ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی مظالم کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے‘پاکستان فلسطین کے عوام سے اظہار یکجہتی کرتا ہے۔انہوں نے امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی اور اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی مظالم کی آزادانہ اورشفاف تحقیقات کرائی جائے‘ فلسطینیوں کیلئے مل کر اقوام متحدہ میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ فلسطین میں جاری بربریت کا خاتمہ ہوسکے۔

شاہد خاقان عباسی نے آزاد فلسطینی ریاست کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اختلافات بھلا کر او آئی سی فورم سے مضبوط موقف دینا ہوگا اور فلسطینیوں کیلئے ملکر اقوام متحدہ میں آواز اٹھانا ہوگی تاکہ فلسطین میں جاری بربریت کا خاتمہ ہوسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل مسئلہ فلسطین پر اپنی قراردادوں پر عمل کروائے، سلامتی کونسل عمل درآمد نہیں کرواسکتی تو جنرل اسمبلی میں حمایت حاصل کرنا ہوگی۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ القدس کے امتحان میں صر ف عالم اسلام نہیں، بلکہ پوری دنیا ناکام ہو چکی ہے‘ ہم آزاد فلسطینی ریاست کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے، اسرائیل کو انسانیت کے خلاف مظالم کا حساب دینا ہوگا، فلسطینیوں کو احتجاج کا قانونی حق حاصل ہے جبکہ اسرائیل نے نہتے فلسطینیوں پر فائرنگ کی- مسلم امہ کومتحد ہو کراسرائیل کو بتانا ہوگا کہ فلسطینی تنہا نہیں‘ رجب طیب اردوان نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ یہودیوں کے قبضے میں ہے جبکہ القدس پر قبضے پر خاموش اقوام متحدہ بھی ظلم وستم میں برابرکی شریک ہے، عالمِ اسلام القدس کے امتحان میں ناکام ہوچکا ہے، عالم اسلام قبلہ اول کوتحفظ فراہم نہیں کرسکتا تو خانہ کعبہ کے تحفظ پرہم کیسے مطمئن ہوسکتے ہیں-ترک صدر نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کے قتل عام پر اسرائیل کا احتساب ہونا چاہیے، دنیا اسرائیل کے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے میں ناکام ہو چکی ہے- رجب طیب اردوان نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا کے خلاف اقدامات نہ کرکےاقوام متحدہ قانونی حیثیت کھوچکی، اب وہ بے وقعت ادارہ ہے -